اسلام آباد ( پاک ترک نیوز) وفاقی وزیر ریلوے محمد حنیف عباسی نے کہا ہے کہ تھر کول ریلوے کنیکٹیویٹی منصوبے کا تقریباً 60 فیصد کام مکمل ہو چکا ہے، جبکہ منصوبہ دسمبر 2026 تک مکمل کر لیا جائے گا۔
وفاقی وزیر نے یہ بات اڑان پاکستان فورم کے زیر اہتمام منعقدہ ایک راؤنڈ ٹیبل کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے ریلوے ٹریکس کی اپ گریڈیشن، انفراسٹرکچر کی جدید کاری اور پاکستان ریلوے کو مالی طور پر مستحکم اور ٹیکنالوجی پر مبنی ادارہ بنانے کو اولین ترجیح دی ہے۔
محمد حنیف عباسی نے کہا کہ ریلوے نظام کی بحالی اور جدید خطوط پر استوار کرنا صرف ایک ٹرانسپورٹ منصوبہ نہیں بلکہ قومی معیشت کی ترقی کے لیے انتہائی اہم اقدام ہے۔
انہوں نے بتایا کہ پاکستان کے ریلوے نیٹ ورک کا بڑا حصہ اب بھی ایسے ٹریکس پر مشتمل ہے جو اپنی معاشی اور تکنیکی عمر پوری کر چکے ہیں، جبکہ گزشتہ کئی دہائیوں سے سرمایہ کاری نہ ہونے کے باعث ریلوے انفراسٹرکچر شدید متاثر ہوا۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ گزشتہ دو دہائیوں میں پاکستان کے ہمسایہ ممالک نے ریلوے کے شعبے میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کی ہے، اس لیے پاکستان کو بھی علاقائی روابط مضبوط بنانے اور اقتصادی ترقی کے لیے تیزی سے جدید ریلوے نظام کی جانب بڑھنا ہوگا۔
انہوں نے بتایا کہ وزارتِ ریلوے نے اسٹریٹجک روڈ میپ 2033 تیار کیا ہے، جس میں ایم ایل ون اور ایم ایل تھری منصوبوں پر عمل درآمد، علاقائی رابطوں کے فروغ، ڈیجیٹل تبدیلی اور جدید ریلوے انفراسٹرکچر کی تعمیر پر خصوصی توجہ دی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: 2022سے2025 تک ریلوے میں کتنے حادثات؟
محمد حنیف عباسی نے مزید کہا کہ پاکستان ریلوے میں ڈیجیٹل ٹکٹنگ، اسمارٹ اسٹیشنز، ٹرین ٹریکنگ سسٹم، انٹرپرائز ریسورس پلاننگ ، کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹرز اور دیگر جدید ٹیکنالوجیز متعارف کرائی جا رہی ہیں تاکہ آپریشنل کارکردگی، مسافروں کو بہتر سہولیات اور ادارے کی مالی کارکردگی میں بہتری لائی جا سکے۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ریلوے منصوبوں کی بروقت تکمیل کے لیے بروقت فنڈز کی فراہمی ناگزیر ہے، اور ریلوے کے شعبے میں سرمایہ کاری کو اخراجات نہیں بلکہ پاکستان کے مستقبل میں سرمایہ کاری سمجھا جانا چاہیے۔












