نئی دہلی : (پاک ترک نیوز)ٹی 20 ورلڈ کپ سے پہلے ایک ایسا دھماکا خیز تنازع سامنے آ گیا ہے جس نے کرکٹ کی دنیا کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔
بھارت میں ہونے والے ٹورنامنٹ سے قبل پاکستانی نژاد امریکی کرکٹرز کے ساتھ وہ سلوک کیا گیا ہے جس پر کھیل کی غیر جانبداری پر سنگین سوالات اُٹھنے لگے ہیں۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکا کی قومی کرکٹ ٹیم کے چار اہم کھلاڑیوں کو بھارتی ویزا دینے سے صاف انکار کر دیا گیا ہے۔
ان کھلاڑیوں میں امریکا کے اسٹار فاسٹ باؤلر علی خان، احسان عادل، شایان جہانگیر اور محمد محسن شامل ہیں۔ یہ تمام کھلاڑی پاکستانی نژاد ہیں اور امریکا کی ٹیم میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔
ویزا مسترد ہونے کے بعد امریکی ٹیم کی ورلڈ کپ میں شرکت ہی مشکوک ہو چکی ہے، جبکہ تیاریوں کو بھی شدید دھچکا پہنچا ہے۔ یہ تنازع صرف امریکا تک محدود نہیں۔ اٹلی، عمان، یو اے ای اور کینیڈا جیسے ممالک کے کرکٹ بورڈز بھی الرٹ ہو چکے ہیں کیونکہ ان کی ٹیموں میں بھی پاکستانی نژاد کھلاڑی شامل ہیں۔
یو اے ای اور عمان نے باضابطہ طور پر آئی سی سی کو خط لکھ کر مداخلت کا مطالبہ کر دیا ہے، مگر بھارتی کرکٹ بورڈ کی جانب سے تاحال کوئی واضح یقین دہانی سامنے نہیں آئی۔
یاد رہے کہ ٹی 20 ورلڈ کپ بھارت اور سری لنکا میں مشترکہ طور پر منعقد ہو رہا ہے، جبکہ پاکستان اپنے تمام میچ سری لنکا میں کھیلے گا۔ امریکا کو گروپ اے میں بھارت، پاکستان، نیدرلینڈ اور نمیبیا کے ساتھ رکھا گیا ہے، اور پہلا میچ ہی بھارت کے خلاف ممبئی کے وانکھیڑے اسٹیڈیم میں ہونا ہے۔
اب سب کی نظریں آئی سی سی پر ہیں۔ کیا عالمی کرکٹ ادارہ مداخلت کرے گا یا سیاست ایک بار پھر کھیل پر حاوی رہے گی۔












