نئی دہلی : (پاک ترک نیوز)بھارت میں بڑھتی ہوئی مذہبی نفرت نے ایک نیا اور خطرناک رخ اختیار کر لیا ہے۔ ایک دہائی سے زائد عرصے سے مسلمانوں کے خلاف تشدد اور نفرت انگیز مہم کے بعد اب مسیحی برادری بھی ہندو انتہاپسند گروہوں کے براہِ راست نشانے پر آ چکی ہے۔
یہ صورتحال ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں ہندو اکثریتی بیانیہ مزید مضبوط ہو چکا ہے۔ کرسمس کی شام، وسطی بھارتی شہر رائے پور میں ہندو سخت گیر تنظیموں نے، جو حکمران جماعت بی جے پی سے وابستہ سمجھی جاتی ہیں، شہر بند کرنے کا اعلان کیا۔
احتجاج کی وجہ مسیحیوں پر مبینہ ’’زبردستی تبدیلیٔ مذہب‘‘ کے الزامات تھے، جن کے حق میں شواہد نہ ہونے کے برابر ہیں۔
اسی روز لاٹھیوں سے مسلح افراد نے ایک شاپنگ مال پر دھاوا بول دیا، کرسمس کی سجاوٹ توڑ دی اور تقریبات کو سبوتاژ کیا۔
پولیس نے مقدمہ تو درج کیا، مگر گرفتار افراد چند دن بعد ضمانت پر رہا ہو گئے اور جیل سے نکلتے وقت ان کا استقبال جلوسوں اور نعروں سے کیا گیا۔
کرسمس کے دن وزیر اعظم مودی نے دہلی میں ایک چرچ کا دورہ تو کیا، مگر تشدد کی مذمت نہیں کی۔
انسانی حقوق کی ایک تازہ رپورٹ کے مطابق بھارت میں مذہبی نفرت انگیز تقاریر اور تشدد میں تشویشناک حد تک اضافہ ہوا ہے، اورمسیحی اقلیت اب مسلمانوں کے ساتھ ایک نمایاں ہدف بن چکی ہے۔
واشنگٹن میں قائم ادارے انڈیا ہیٹ لیب کی رپورٹ کے مطابق 2025 میں بھارت میں نفرت انگیز تقاریر کے 1318 واقعات ریکارڈ کیے گئے، جو روزانہ اوسطاً تین سے زیادہ بنتے ہیں۔
ان واقعات میں 2023 کے مقابلے میں 97 فیصد اضافہ دیکھا گیا۔ اگرچہ مسلمان بدستور سب سے بڑا ہدف رہے، مگرمسیحیوں کے خلاف نفرت انگیزی میں 41 فیصد اضافہ ہوا۔
یہ نفرت صرف زبان تک محدود نہیں رہی۔ مدھیہ پردیش میں بی جے پی کے ایک رہنما نے نابینا بچوں کی کرسمس تقریب پر حملہ کرنے والے ہجوم کی قیادت کی۔
دہلی میں سانتا کی ٹوپیاں پہنے خواتین کو ہراساں کیا گیا، جبکہ کیرالہ میں آر ایس ایس سے وابستہ افراد نے اسکولوں کو کرسمس منانے سے روکنے کی دھمکیاں دیں۔
مسیحی بھارت کی آبادی کا صرف 2.3 فیصد ہیں، مگر انہیں ’’غیر ملکی‘‘ اور ’’اندرونی دشمن‘‘ کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ بیانیہ آر ایس ایس اور بی جے پی کی اس نظریاتی سوچ سے جڑا ہے جو بھارت کو ایک خالص ہندو ریاست بنانے کا خواب دیکھتی ہے، جو آئینی سیکولرازم کی کھلی نفی ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ نفرت انگیز واقعات میں مسلمانوں کے خلاف بھی شدید اضافہ ہوا ہے، جہاں ’’لو جہاد‘‘، ’’لینڈ جہاد‘‘ اور ’’آبادی جہاد‘‘ جیسے سازشی نظریات کو بنیاد بنا کر تشدد پر اکسانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ یہ نفرت محض سیاسی فائدے کے لیے پھیلائی جا رہی ہے، مگر اس کے نتائج انتہائی خطرناک ہو سکتے ہیں، کیونکہ نفرت انگیز تقریر بالآخر حقیقی تشدد میں بدل جاتی ہے۔












