دمشق: (پاک ترک نیوز)شام میں نئی کرنسی نوٹس منی ایکسچینج مراکز پر پہنچنا شروع ہو گئے ہیں، جن پر معزول صدر بشار الاسد اور ان کے خاندان کی تصاویر ہٹا دی گئی ہیں۔
نئی حکومت کو اُمید ہے کہ اس اقدام سے شامی پاؤنڈ گذشتہ ایک دہائی سے جاری جنگ کے دوران کھوئی ہوئی قدر کا کچھ حصہ واپس حاصل کر سکے گا۔
یہ نئے نوٹ کئی ماہ کی تیاری کے بعد متعارف کرائے گئے ہیں اور یہ معیشت کو مستحکم کرنے، بحال کرنے اور ریاستی شناخت کو نئے سرے سے پیش کرنے کی وسیع حکمتِ عملی کا حصہ ہیں۔
شامی پاؤنڈ شدید گراوٹ کا شکار رہا ہے جبکہ مہنگائی حالیہ عرصے میں تین ہندسوں تک جا پہنچی۔ 2025 کے آخر میں ایک سرکاری ذریعے نے خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا کہ شامی مرکزی بینک کے پاس زرمبادلہ کے ذخائر صرف 200 ملین ڈالر رہ گئے تھے، جبکہ 2010 کے اختتام پر یہ ذخائر 17 ارب ڈالر تھے۔
نئی شامی قیادت کے لیے کرنسی کی ساکھ بحال کرنا سب سے بڑے چیلنجز میں شامل ہے، جس کے ساتھ اندرونی و بیرونی سیکیورٹی مسائل بھی درپیش ہیں۔اس عمل کے تحت پرانی کرنسی سے دو صفر ختم کر دیے گئے ہیں، جسے مالیاتی زبان میں ری ڈینومینیشن کہا جاتا ہے، تاکہ لین دین کو آسان بنایا جا سکے۔
گذشتہ ہفتے نئی کرنسی جاری کرتے ہوئے شامی رہنما احمد الشرع نے کہا کہ یہ نوٹ“ایک ناپسندیدہ ماضی کے خاتمے اور اس نئے دور کی علامت ہیں جس کا خواب شامی عوام دیکھتے ہیں۔”انہوں نے مزید کہا کہ“نئی کرنسی کا ڈیزائن قومی شناخت کی عکاسی کرتا ہے اور شخصیات کی پرستش سے دوری کا اظہار ہے۔”10 سے 500 شامی پاؤنڈ تک کے نئے نوٹ یکم جنوری سے گردش میں آ چکے ہیں، جن پر گلاب، گندم، زیتون، سنگترے اور دیگر زرعی علامات بنی ہیں، جن کے لیے شام جانا جاتا ہے۔
2011 میں جنگ شروع ہونے کے بعد شامی پاؤنڈ کی قدر، صفر ختم کرنے سے پہلے، ڈالر کے مقابلے میں 50 سے گر کر تقریباً 11 ہزار تک جا پہنچی تھی، جس کے باعث عام شہریوں کو روزمرہ خریداری کے لیے بھی موٹی گڈیاں اٹھانا پڑتی تھیں۔
واضح رہے کہ دو صفر ختم کرنے سے کرنسی کی اصل قدر پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔ادھر امریکا نے مستقل بنیادوں پر سیزر پابندیاں ختم کرنے کا اعلان کیا ہے، جس سے شام میں سرمایہ کاری کی واپسی کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔اس کے علاوہ قطر اور سعودی عرب سمیت خلیجی ممالک نے اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کا اعلان کر کے شامی معیشت کو نیا سہارا دیا ہے۔












