لاہور( پاک تر ک نیوز) ڈالر کے نظام کو جھٹکا ،پاکستان کا یورپی یونین ،روس اور ایران سے کرنسی وار پلان تیار ،کیا یہ عالمی مالیاتی نقشہ بدلنے کی کوشش ہے ،ڈالر کی بجائے مقامی کرنسی کا نیا ٹریڈ سسٹم عالمی معیشت میں ہلچل مچا سکتا ہے
ستان نے امریکی ڈالر پر انحصار کم کرنے کے لیے عالمی مالیاتی نظام میں بڑی اسٹریٹجک تبدیلی کا آغاز کردیا ۔ وزیراعظم آفس نے ہدایت دی ہے کہ یورپی یونین، روس اور ایران کے ساتھ کرنسی سواپ معاہدے جلد از جلد مکمل کیے جائیں۔یہ معاہدے پاکستان اور چین کے موجودہ سواپ ماڈل کی طرز پر ہوں گے، جس کے تحت تجارتی ادائیگیاں ڈالر کے بجائے مقامی یا متبادل کرنسیوں میں کی جائیں گی۔
حکام کے مطابق روس اور ایران کے ساتھ ایسے معاہدے تجارت کو آسان بنا سکتے ہیں اور زرمبادلہ کے ذخائر پر دباؤ کم کر سکتے ہیں۔ منصوبہ وزارت خزانہ کے اسٹریٹجک اصلاحاتی ایجنڈے میں شامل کر لیا گیا ۔ ۔ حکومت نے آسیان ممالک کے ساتھ مذاکرات سے متعلق بھی پیش رفت کی رپورٹ طلب کی ہے تاکہ تجارتی ادائیگیوں کے متبادل نظام کو وسعت دی جا سکے۔
یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پاکستان بیرونی مالی دباؤ کا سامنا کر رہا ہے، جس میں اس ماہ 4.8 ارب ڈالر کی ادائیگیاں شامل ہیں۔ حکومت پہلے ہی 1.3 ارب ڈالر کا یورو بانڈ واپس کر چکی ہے اور بروقت ادائیگیوں کے عزم کا اظہار کیا ہے۔
پاکستان نےآئی ایم ایف سے بھی وعدہ کیا ہے کہ وہ کرنسی کنٹرولز میں نرمی کرے گا، جس میں کمرشل بینکوں کو ڈالر مرکزی بینک کو جمع کرانے کے اہداف ختم کرنا اور بیرونی کرنسی کے بہاؤ پر پابندیاں نرم کرنا شامل ہے، بشرطیکہ زرمبادلہ کے ذخائر مناسب ہوں۔حکومت کا ہدف ہے کہ 2028 تک قرضہ بمقابلہ جی ڈی پی تناسب 61.5 فیصد تک لایا جائے، بیرونی قرضہ 17.9 فیصد تک کم کیا جائے اور سود کی ادائیگیاں 4.9 فیصد جی ڈی پی تک محدود کی جائیں۔
ماہرین کے مطابق یہ اقدام اگر کامیاب ہوا تو پاکستان عالمی تجارت میں ایک نئے مالیاتی بلاک کی طرف بڑھ سکتا ہے، تاہم ناکامی کی صورت میں زرمبادلہ دباؤ مزید بڑھنے کا خدشہ بھی موجود ہے۔












