دمشق/واشنگٹن: (پاک ترک نیوز)مشرقی شام میں قائم اسٹریٹجک فوجی اڈے التنف سے امریکی افواج کے مکمل انخلا کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق دو شامی عسکری ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ امریکی فوجیوں نے بیس خالی کر دی ہے اور وہاں تعینات اہلکاروں کو اردن منتقل کر دیا گیا ہے۔
ایک شامی عسکری ذریعے نے بتایا کہ “امریکی افواج آج مکمل طور پر التنف بیس سے نکل گئیں۔” جبکہ دوسرے ذریعے کے مطابق گزشتہ 15 دنوں سے بیس سے فوجی سازوسامان کی منتقلی جاری تھی۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکا اردن سے التنف میں موجود اہلکاروں کے ساتھ رابطہ اور ہم آہنگی جاری رکھے گا۔
التنف بیس شام، اردن اور عراق کی سرحدی سنگم پر واقع ہے اور اسے 2014 میں داعش کے خلاف عالمی اتحاد کی کارروائیوں کے اہم مرکز کے طور پر قائم کیا گیا تھا۔
یہ اڈہ خطے میں امریکی فوجی حکمتِ عملی کا کلیدی حصہ سمجھا جاتا رہا ہے۔ دسمبر میں داعش کے حملے کے بعد زخمی اہلکاروں کو بھی اسی بیس پر منتقل کیا گیا تھا۔امریکی افواج دہائیوں سے اردن میں موجود ہیں، اور امکان ہے کہ التنف سے نکلنے والے اہلکار اردن میں قائم کسی موجودہ امریکی فوجی اڈے میں شامل ہوں گے۔
اُدھر حالیہ ہفتوں میں خطے میں کشیدگی میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ رواں ماہ تہران کے ایک رکن پارلیمان نے اردن میں موجود امریکی اڈے کے خلاف سخت بیان دیتے ہوئے اردنی عوام کو “اڈے پر قبضہ کرنے” کی ترغیب دی۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ موافق سلتی ایئربیس اسرائیل ایران کشیدگی کے دوران “ایرانی میزائلوں کے خلاف کارروائیوں” میں استعمال ہوئی۔انہوں نے عندیہ دیا کہ اگر ایرانی میزائل حملہ ہوا تو امریکی فوجیوں کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق امریکی انخلا خطے میں طاقت کے توازن اور ممکنہ فوجی حکمتِ عملی میں بڑی تبدیلی کا اشارہ ہو سکتا ہے۔












