ڈھاکہ : (پاک ترک نیوز)بنگلا دیش میں قائم کمیشن آف انکوائری آن انفورسڈ ڈس اپیئرنسز نے انکشاف کیا ہے کہ معزول وزیرِ اعظم شیخ حسینہ واجد کے دورِ اقتدار میں جبری گمشدگیوں کے واقعات کی تعداد 4 ہزار سے 6 ہزار تک ہو سکتی ہے۔
رپورٹ کے مطابق کمیشن کو مجموعی طور پر 1,913 شکایات موصول ہوئیں، جن میں سے 1,569 کیسز کی تصدیق جانچ پڑتال کے بعد “جبری گمشدگی” کے زمرے میں کی گئی۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ان میں سے 287 افراد کو ‘لاپتہ اور مردہ’ کے زمرے میں رکھا گیا ہے۔یہ رپورٹ بنگلا دیش کے چیف ایڈوائزر محمد یونس نے اپنے فیس بک اکاؤنٹ پر شیئر کی۔
کمیشن کی رکن نبیلہ ادریس کے مطابق اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ بہت سے متاثرہ خاندان یا تو کمیشن سے رابطہ ہی نہیں کر سکے، یا ملک چھوڑ چکے ہیں، جبکہ کچھ افراد نے ریکارڈ پر بات کرنے سے انکار کر دیا، جس کے باعث اصل تعداد 4 سے 6 ہزار کے درمیان ہونے کا خدشہ ہے۔
واضح رہے کہ نومبر میں شیخ حسینہ کو 2024 میں ہونے والے طلبہ تحریک کے دوران سیکیورٹی فورسز کے پرتشدد کریک ڈاؤن کے کیس میں بھارت فرار ہونے کے بعد غیر موجودگی میں سزائے موت سنائی گئی تھی، جس میں سینکڑوں افراد جاں بحق ہوئے تھے۔
کمیشن کے مطابق جبری گمشدگیوں کے پیچھے بنیادی طور پر سیاسی مقاصد کارفرما تھے۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ جو افراد زندہ واپس آئے، ان میں سے75 فیصد جماعتِ اسلامی اور 22 فیصد بنگلا دیش نیشنلسٹ پارٹی کے کارکن یا رہنما تھے۔جبکہ جو افراد تاحال لاپتہ ہیں، ان میں68 فیصد کا تعلق BNPاور 22 فیصد کا جماعتِ اسلامی سے بتایا گیا ہے۔
کمیشن کے مطابق شواہد کا رخ خود شیخ حسینہ، ان کے دفاعی مشیر طارق احمد صدیق، اور سابق وزیرِ داخلہ اسد الزمان خان کمال کی طرف جاتا ہے۔رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ شیخ حسینہ نے BNP کے رہنماؤں الیاس علی، ہمام قادر چوہدری، صلاح الدین احمد، چوہدری عالم اور جماعتِ اسلامی کے رہنماؤں عبداللہ الامان اظمی، میر احمد بن قاسم اور معروف زمان کی جبری گمشدگیوں کے احکامات دیے۔
عبوری حکومت کے سربراہ محمد یونس نے کمیشن کی کوششوں کو “تاریخی” قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ رپورٹ اس بات کا دستاویزی ثبوت ہے کہ کس طرح جمہوریت کے نام پر اداروں کو ہلا کر رکھ دیا گیا۔
انہوں نے کہا:“یہ ظلم ہمارے ہی جیسے لوگوں نے کیا اور وہ آج بھی معاشرے میں معمول کی زندگی گزار رہے ہیں۔ ہمیں بحیثیت قوم اس ظلم سے ہمیشہ کے لیے نکلنا ہو گا تاکہ یہ تاریخ دوبارہ نہ دہرائی جائے۔”گزشتہ ماہ بنگلادیش کی سابق وزیرِ اعظم اور BNP کی دیرینہ رہنما خالدہ ضیا کے انتقال کے بعد ملک میں ایک سیاسی عہد کا خاتمہ ہو گیا ہے۔ اب سب کی نظریں اس بات پر ہیں کہ آیا ان کے بیٹے طارق رحمان اپنی والدہ کی سیاسی وراثت کو آگے بڑھا پائیں گے یا نہیں۔












