سنگاپور(پاک ترک نویز )مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے باعث سعودی عرب کی تیل برآمدات متاثر ہونے کے بعد سعودی آرامکو نے بعض ایشیائی خریداروں کے لیے ستمبر کی خام تیل کی سپلائی کا معمول کا ماہانہ طریقہ کار تبدیل کردیا ہے۔
معاملے سے باخبر تین ذرائع کے مطابق آرامکو بعض ایشیائی خریداروں کے ساتھ ستمبر کے لیے خام تیل کی مقدار انفرادی بنیادوں پر طے کررہی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز اور بحیرہ احمر کے اطراف جاری کشیدگی نے سعودی عرب سے تیل کی ترسیل متاثر کی ہے، جس کے باعث خریداروں کو اپنے معاہدے کے تحت تیل کی مطلوبہ مقدار حاصل کرنے اور جہازوں کی دستیابی کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال کا سامنا ہے۔
معمول کے مطابق سعودی آرامکو ہر ماہ کے آغاز میں سرکاری فروخت قیمت کا اعلان کرنے کے بعد اپنے مستقل خریداروں سے خام تیل کی مطلوبہ مقدار کی درخواستیں وصول کرتی ہے اور عموماً ماہ کی 10 تاریخ کے قریب خریداروں کو ان کا کوٹا بتا دیا جاتا ہے۔
چین کے چار خریداروں نے بتایا کہ انہیں رواں ہفتے تک ستمبر کی سپلائی کا کوٹا موصول نہیں ہوا۔ ان میں سے دو اور ایک دوسرے ایشیائی خریدار کے مطابق آرامکو کے ساتھ خام تیل کی مقدار انفرادی طور پر طے کی جارہی ہے۔
ایک بھارتی ریفائنری ذرائع کے مطابق اسے مکمل کوٹا مل گیا ہے، تاہم یہ کوٹا حتمی نہیں سمجھا جارہا کیونکہ خام تیل کی ترسیل کے لیے جہاز حاصل کرنے میں مشکلات کا خدشہ ہے۔
رپورٹ کے مطابق سعودی آرامکو نے رواں ماہ ایشیا کے لیے عرب لائٹ خام تیل کی ستمبر کی سرکاری فروخت قیمت مزید کم کرکے گزشتہ چھ سال کی کم ترین سطح پر کردی، تاکہ طلب برقرار رکھی جاسکے۔
ریفائنری ذرائع کا کہنا ہے کہ بہت کم جہاز مالکان آبنائے ہرمز یا بحیرہ احمر سے گزر کر سعودی عرب کی اہم برآمدی بندرگاہوں سے تیل لادنے پر آمادہ ہیں۔
رواں سال 20 جولائی کو حوثیوں نے سعودی عرب کے خلاف بحری پابندی کا اعلان کیا تھا، جس کے بعد ایران جنگ میں امریکا اور اس کے اتحادیوں کے خلاف ایک نیا محاذ کھلنے کا خدشہ پیدا ہوا۔
اس کے بعد حوثیوں نے سعودی عرب سے منسلک آئل ٹینکرز، ینبع کی تیل تنصیبات اور حال ہی میں بحیرہ احمر کے ساحل پر واقع جازان ریفائنری کو نشانہ بنانے کے دعوے بھی کیے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: امریکا ،ایران جنگ بندی ، عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں بڑی کمی
سعودی عرب نے بحیرہ روم کی مصری بندرگاہ سیدی کریر سے اضافی خام تیل کی کھیپیں فراہم کرنے کی پیشکش بھی کی ہے، تاہم ایشیائی خریدار طویل راستے اور اضافی مال برداری کے اخراجات کے باعث وہاں سے تیل حاصل کرنے میں ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کررہے ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ سال سعودی عرب نے ایشیا کو روزانہ تقریباً 49 لاکھ بیرل خام تیل برآمد کیا، تاہم جولائی میں یہ حجم 30 لاکھ بیرل یومیہ سے بھی کم ہوگیا۔
اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ سال سعودی عرب نے ایشیا کو روزانہ تقریباً 49 لاکھ بیرل خام تیل برآمد کیا، تاہم جولائی میں یہ حجم 30 لاکھ بیرل یومیہ سے بھی کم ہوگیا۔











