تہران ( پاک ترک نیوز) مشرق وسطیٰ سے خام تیل کی برآمدات میں نمایاں بحالی، جنگ اور آبنائے ہرمز میں مسلسل سکیورٹی خطرات کے باوجود تیل کی ترسیل تقریباً جنگ سے پہلے کی سطح پر پہنچ گئی۔رپورٹ کے مطابق جے پی مورگن نے اندازہ لگایا ہے کہ ستمبر میں مشرق وسطیٰ سے خام تیل کی برآمدات ایک کروڑ 75 لاکھ بیرل یومیہ تک پہنچ گئیں، جو جنگ سے پہلے کی سطح کا تقریباً 98 فیصد ہے۔ماہرین کے مطابق تیل کی ترسیل بحال رکھنے کے لیے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات سمیت خطے کے ممالک آبنائے ہرمز سے گریز کے لیے پائپ لائنوں، چھوٹے تیل بردار جہازوں اور ایک جہاز سے دوسرے جہاز میں تیل منتقل کرنے کے طریقوں پر زیادہ انحصار کر رہے ہیں۔
سعودی عرب کی مشرقی سے مغربی تیل پائپ لائن خام تیل کو بحیرہ احمر کی بندرگاہ ینبع تک پہنچاتی ہے، جس سے آبنائے ہرمز کو نظرانداز کیا جا سکتا ہے۔ دس ستمبر کو ایران نواز حوثی جنگجوؤں کے حملے میں پائپ لائن کو نقصان پہنچا تھا، تاہم ماہ کے آخر میں ینبع سے تیل کی ترسیل میں دوبارہ اضافہ دیکھا گیا۔متحدہ عرب امارات بھی آبنائے ہرمز سے بچنے کے لیے اپنی پائپ لائن کے ذریعے تیل فجیرہ کی بندرگاہ تک پہنچا رہا ہے۔رپورٹ کے مطابق آبنائے ہرمز میں خطرات اب بھی برقرار ہیں۔ تیس ستمبر کو آبنائے ہرمز سے گزرنے والے لائبیریا کے پرچم بردار تین تیل بردار جہاز نامعلوم سمت سے آنے والے حملوں کی زد میں آئے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ تیل کی برآمدات میں اضافہ اس بات کا ثبوت نہیں کہ آبنائے ہرمز محفوظ ہو گئی ہے، بلکہ تیل کی صنعت نے خطرات کے باوجود متبادل راستوں اور حفاظتی انتظامات کے ذریعے ترسیل جاری رکھنے کے طریقے اختیار کر لیے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان فضائیہ اور بحریہ میں ایئربس ایچ 125 ہیلی کاپٹروں کی شمولیت
دوسری جانب خام تیل کی فراہمی میں بہتری کے باوجود عالمی منڈی میں ڈیزل کی قلت اور قیمتوں میں اضافے کا مسئلہ برقرار ہے۔بین الاقوامی توانائی ایجنسی کے مطابق جنگ شروع ہونے کے بعد مشرق وسطیٰ میں تقریباً 30 لاکھ بیرل یومیہ ریفائننگ صلاحیت دستیاب نہیں رہی، جبکہ جنگ سے پہلے مشرق وسطیٰ سے روزانہ 33 لاکھ بیرل ریفائن شدہ تیل مصنوعات برآمد ہوتی تھیں۔












