بشکیک ( پاک ترک نیوز) وسطی ایشیائی ملک کرغزستان کے دارالحکومت بشکیک میں یکم ستمبر کو شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کا سربراہ اجلاس ہوگا، جس میں چین کے صدر شی جن پنگ، بھارتی وزیراعظم نریندر مودی اور روسی صدر ولادیمیر پیوٹن سمیت رکن ممالک کے سربراہان شرکت کریں گے۔
ایس سی او کا یہ اجلاس تنظیم کے قیام کی 25ویں سالگرہ کے موقع پر ہو رہا ہے۔ اجلاس میں علاقائی سکیورٹی، عالمی کشیدگی، تجارت، معاشی تعاون اور یوریشیا میں ٹرانسپورٹ روابط سمیت اہم امور پر غور کیا جائے گا۔اجلاس میں پاکستان کی نمائندگی وزیراعظم محمد شہباز شریف کریں گے، جبکہ ایران کے صدر مسعود پزشکیان بھی شرکت کریں گے۔ شہباز شریف اور نریندر مودی کی ملاقات بھی خصوصی اہمیت کی حامل ہوگی، کیونکہ دونوں جوہری طاقتوں کے درمیان گزشتہ سال کی مختصر فوجی کشیدگی کے بعد تعلقات میں تناؤ برقرار ہے۔
چین اور بھارت کے درمیان حالیہ برسوں میں سرحدی تنازع کے باعث تعلقات کشیدہ رہے ہیں، تاہم حالیہ عرصے میں دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں بہتری کے آثار نظر آئے ہیں۔25 اگست کو چینی اور بھارتی حکام نے بیجنگ میں سرحدی مذاکرات کا ایک اور دور کیا اور سرحد پر امن و استحکام برقرار رکھنے کی کوششیں جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔ بشکیک میں شی جن پنگ اور مودی کی ملاقات سے یہ اندازہ لگایا جائے گا کہ دونوں ملکوں کے تعلقات میں بہتری کس حد تک آگے بڑھی ہے۔شی جن پنگ اور ولادیمیر پیوٹن کی ملاقات بھی اہم ہوگی، جس میں چین اور روس کے بڑھتے ہوئے تعلقات اور علاقائی معاملات پر دونوں ممالک کے مؤقف میں ہم آہنگی کا جائزہ لیا جائے گا۔
ایرانی صدر مسعود پزشکیان کی بھی روسی صدر پیوٹن سے ملاقات متوقع ہے۔ یہ ملاقات ایسے وقت ہو رہی ہے جب امریکا ایران کے ساتھ تجارت کرنے والے ممالک اور اداروں پر مزید پابندیاں عائد کرنے کی دھمکیاں دے رہا ہے۔ شنگھائی تعاون تنظیم کی بنیاد 1996 میں چین، روس، قازقستان، کرغزستان اور تاجکستان نے رکھی تھی۔ 2001 میں ازبکستان کی شمولیت کے بعد اسے باقاعدہ ایس سی او کا نام دیا گیا۔بعد ازاں پاکستان اور بھارت 2017، ایران 2023 اور بیلاروس 2024 میں مکمل رکن بنے۔ اس وقت تنظیم کے ارکان کی تعداد 10 ہے، جن میں پاکستان، چین، روس، بھارت، ایران، قازقستان، کرغزستان، تاجکستان، ازبکستان اور بیلاروس شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: روس میں کار بم دھماکا،لیفٹیننٹ کرنل ہلاک ،بیوی زخمی
ایس سی او کے رکن ممالک کی مجموعی آبادی تقریباً 3 ارب 40 کروڑ ہے اور یہ ممالک عالمی جی ڈی پی کا تقریباً 25 فیصد حصہ رکھتے ہیں۔ایس سی او نیٹو کی طرح فوجی اتحاد یا یورپی یونین کی طرح معاشی اتحاد نہیں، بلکہ یہ سکیورٹی تعاون، معاشی روابط اور سفارتی مذاکرات کا ایک پلیٹ فارم ہے۔ اجلاس میں مشرق وسطیٰ، ایران، یوکرین، افغانستان اور علاقائی سکیورٹی کی صورتحال پر تبادلہ خیال متوقع ہے۔
دہشت گردی کے خلاف تعاون بھی اہم موضوع ہوگا۔ تنظیم کے تحت تاشقند میں قائم علاقائی انسدادِ دہشت گردی ڈھانچے کے آئندہ سال کے منصوبوں اور ممکنہ مشترکہ مشقوں کی منظوری بھی دی جاسکتی ہے۔معاشی تعاون کے تحت ٹرانسپورٹ انفراسٹرکچر، علاقائی تجارت اور ایس سی او ڈویلپمنٹ بینک کے قیام پر بات چیت ہوگی۔اجلاس میں 7 ہزار 200 کلومیٹر طویل انٹرنیشنل نارتھ ساؤتھ ٹرانسپورٹ کوریڈور بھی اہم منصوبوں میں شامل ہے، جو روس کو ایران کے راستے بھارت سے ملاتا ہے۔ بشکیک اجلاس میں کرغزستان کی ایس سی او کی صدارت ختم ہوجائے گی اور پاکستان تنظیم کی آئندہ ایک سال کے لیے سربراہی سنبھالے گا۔












