بیجنگ ( پاک ترک نیوز) نیپال اور تبت کے سرحدی علاقوں میں شدید سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ نے بڑے پیمانے پر تباہی مچادی ہے، جہاں ہلاکتوں کی تعداد 165 ہوگئی ہے۔حکام کے مطابق غیر ملکی سیاحوں سمیت سینکڑوں افراد تاحال لاپتا ہیں۔ لاپتا افراد میں 341 غیر ملکی باشندے اور 28 پولیس اہلکار بھی شامل ہیں۔
حکام کے مطابق غیر ملکی سیاحوں سمیت سینکڑوں افراد تاحال لاپتا ہیں۔ لاپتا افراد میں 341 غیر ملکی باشندے اور 28 پولیس اہلکار بھی شامل ہیں۔فوج اور امدادی اداروں کی جانب سے متاثرہ علاقوں میں ریسکیو اور امدادی کارروائیاں جاری ہیں، تاہم مزید ہلاکتوں کا خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے۔
تبت میں لینڈ سلائیڈنگ کے باعث لاپتا افراد کی تعداد 558 تک پہنچ گئی ہے۔ دشوار گزار علاقوں اور خراب موسم کے باعث امدادی سرگرمیوں میں مشکلات کا سامنا ہے۔پاکستان نے قدرتی آفت سے متاثرہ چین اور نیپال کو ہر ممکن مدد اور تعاون کی پیشکش کردی۔نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے چین اور نیپال میں سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے نتیجے میں قیمتی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا۔
یہ بھی پڑھیں: اسحاق ڈار کا چین اور نیپال میں سیلاب و لینڈ سلائیڈنگ سے جانی نقصان پر اظہار افسوس
اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان مشکل کی اس گھڑی میں چینی اور نیپالی عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتا ہے اور دونوں ممالک کو ہر ممکن تعاون اور مدد فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔نائب وزیراعظم نے جاں بحق افراد کے اہلخانہ سے دلی تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے ریسکیو اور امدادی ٹیموں کی انتھک خدمات کو بھی خراجِ تحسین پیش کیا۔
انہوں نے دعا کی کہ قدرتی آفت میں متاثر ہونے والے افراد کو جلد از جلد محفوظ مقامات پر منتقل کیا جائے اور لاپتا افراد کی بحفاظت واپسی ممکن ہو۔پاکستان کی جانب سے چین اور نیپال کے ساتھ اظہارِ یکجہتی ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دونوں ممالک کے متاثرہ علاقوں میں ریسکیو اور امدادی سرگرمیاں مسلسل جاری ہیں۔












