بیجنگ ( پاک ترک نیوز) چینی کمپنی چائنا ہاربر انجینئرنگ کمپنی نے کیٹی بندر پورٹ کے تصوراتی ماسٹر پلان کا پیش کردیا، جس کے تحت پاکستان میں ایک نیا گہرے پانی کا بحری گیٹ وے قائم کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔صدر مملکت آصف علی زرداری نے منصوبے کا جائزہ لیتے ہوئے کیٹی بندر پورٹ کی ترقی کے لیے مربوط حکمت عملی اپنانے پر زور دیا۔
منصوبے کے پہلے مرحلے میں 500 میٹر طویل کوے کے ساتھ ملٹی پرپز ٹرمینل قائم کرنے کی تجویز دی گئی ہے، جبکہ منصوبے کی ابتدائی انجینئرنگ لاگت کا تخمینہ تقریباً 52 کروڑ 23 لاکھ ڈالر لگایا گیا ہے۔تصوراتی ماسٹر پلان کے مطابق کیٹی بندر پورٹ پر متعدد ٹرمینلز، لاجسٹکس سہولیات اور دیگر معاون انفراسٹرکچر تعمیر کیا جائے گا۔صدر آصف علی زرداری نے کہا کہ کیٹی بندر میں پاکستان کے لیے ایک اضافی بحری گیٹ وے بننے کی بھرپور صلاحیت موجود ہے، جو ملک کے بندرگاہی اور لاجسٹکس نیٹ ورک کو مضبوط بنانے کے ساتھ تجارت اور علاقائی رابطوں کے فروغ میں بھی مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔
صدر مملکت نے منصوبے کی کامیابی کے لیے سڑکوں کے قابلِ اعتماد رابطے، بجلی، پانی، صنعتی انفراسٹرکچر اور دیگر ضروری سہولیات کی فراہمی یقینی بنانے پر زور دیا۔انہوں نے چینی کمپنی اور متعلقہ پاکستانی اداروں کے درمیان قریبی تکنیکی تعاون کی ضرورت پر بھی زور دیا تاکہ ماسٹر پلان کو مزید بہتر بنایا جاسکے اور منصوبے کے لیے مناسب مالیاتی و عملی فریم ورک تیار کیا جاسکے۔
یہ بھی پڑھیں: پاک ایران گیس پائپ لائن پر ڈیڈلاک ختم کرنے کیلئے اعلیٰ سطحی کمیٹی قائم
آصف علی زرداری نے ماحولیاتی تحفظ کو بھی منصوبے کا اہم حصہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ سندھ ڈیلٹا کے نازک ماحولیاتی نظام، مقامی ماہی گیروں اور ان کے روزگار کے تحفظ کو
خصوصی اہمیت دی جانی چاہیے۔
اجلاس میں وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ، سینیٹرز سلیم مانڈوی والا اور شیری رحمان سمیت سندھ حکومت کے دیگر اعلیٰ حکام نے بھی شرکت کی۔












