ریاض ( پاک ترک نیوز) مشرقِ وسطیٰ میں ایک بار پھر کشیدگی خطرناک موڑ پر پہنچ گئی۔۔۔ جنگ بندی کے بعد نیا محاذ کھل گیا۔۔۔ امریکہ اور سعودی عرب نے عراق میں ایران نواز گروپوں کے ٹھکانوں پر مشترکہ حملے کیے۔۔۔ دوسری جانب ایران نے بھی خاموشی توڑتے ہوئے امریکی اڈوں کو بیلسٹک میزائلوں سے نشانہ بنانے کا دعویٰ کر دیا۔۔۔ خطے میں جنگ کے مزید پھیلنے کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔
امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق امریکہ اور سعودی عرب نے عراق میں ایران کے حمایت یافتہ مسلح گروہوں کے متعدد ٹھکانوں پر فضائی حملے کیے۔ سینٹ کام کا کہنا ہے کہ ان گروہوں کی جانب سے امریکی افواج اور سعودی عرب کے توانائی ڈھانچے پر حملوں کی تیاری کی جا رہی تھی، جسے بروقت کارروائی کے ذریعے ناکام بنا دیا گیا۔
سعودی وزارت دفاع کے مطابق ایران نواز گروہوں نے حالیہ دنوں میں سعودی تیل تنصیبات کو ڈرون حملوں کا نشانہ بنایا تھا، جس کے جواب میں کارروائی کی گئی۔ عرب میڈیا کے مطابق سعودی رائل ایئر فورس نے عراق کے بصرہ، واسط، کربلا اور نینوی میں چار مختلف مقامات پر فضائی حملے کیے۔
دوسری جانب جنگ بندی کے بعد پہلی بار ایران نے امریکی فوجی اڈوں پر حملے کا دعویٰ کیا ہے۔ پاسدارانِ انقلاب کے مطابق اردن میں موجود امریکی فوجی اڈے اور امریکی سینٹرل کمانڈ کے مرکز پر بیلسٹک میزائل داغے گئے۔
یہ بھی پڑھیں: مشرقِ وسطیٰ میں نیا محاذ کھل گیا،سعودی عرب اور امریکا کے عراق میں حملے
تاہم امریکی سینٹرل کمانڈ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے تمام بیلسٹک میزائل فضا میں ہی تباہ کر دیے گئے اور حملے میں مشرقِ وسطیٰ میں تعینات کوئی بھی امریکی فوجی نقصان کا شکار نہیں ہوا۔
ادھر پاسدارانِ انقلاب نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز میں وارننگ نظر انداز کرنے والے تین آئل ٹینکروں کو روک لیا گیا ہے، جس سے عالمی توانائی کی ترسیل اور تیل کی منڈیوں میں نئی تشویش پیدا ہو گئی ہے۔
امریکہ، سعودی عرب اور ایران کے درمیان تازہ فوجی کارروائیوں نے مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کو ایک نئے مرحلے میں داخل کر دیا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اگر یہ حملے اور جوابی کارروائیاں جاری رہیں تو خطے میں ایک وسیع علاقائی جنگ کا خطرہ مزید بڑھ سکتا ہے۔












