اسلام آباد ( پاک ترک نیوز) سعودی عرب نے پاکستان کو بڑا مالی ریلیف دیتے ہوئے 5 ارب ڈالر کے قرض کی واپسی مزید تین سال کے لیے مؤخر کر دی، جس سے پاکستان پر فوری بیرونی ادائیگیوں کا دباؤ نمایاں طور پر کم ہو گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق سعودی عرب نے یہ قرض پاکستان کو اس وقت فراہم کیا تھا تاکہ پاکستان متحدہ عرب امارات کو واجب الادا ادائیگیاں کر سکے۔ قرض کی مدت میں توسیع سے پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر اور بیرونی مالیاتی پوزیشن کو سہارا ملنے کی توقع ہے۔
اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے مطابق اس وقت سعودی عرب کے 8 ارب ڈالر پاکستان میں بطور ڈیپازٹس موجود ہیں، جو ملک کے زرمبادلہ کے ذخائر کو مستحکم رکھنے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کا مشرق وسطیٰ میں ابھرتا ہوا دفاعی کردار
ماہرین کا کہنا ہے کہ قرض کی واپسی مؤخر ہونے سے پاکستان کو قلیل مدت میں مالیاتی دباؤ سے ریلیف ملے گا، جبکہ حکومت کو بیرونی ادائیگیوں کے انتظام اور معاشی استحکام کے لیے مزید مہلت حاصل ہو گی۔












