اسلام آباد ( پاک ترک نیوز) پاور ڈویژن کے ایک مشیر نے بجلی کے شعبے میں ایسا نیا نظام متعارف کرانے کی تجویز دی ہے، جس کے تحت شام کے اوقات میں گھروں اور اداروں میں ذخیرہ کی گئی بجلی قومی نظام کو فراہم کرنے پر زیادہ معاوضہ دیا جائے، تاکہ بجلی کی بڑھتی ہوئی طلب کو پورا کرنے میں مدد مل سکے۔
مشیر سید فیضان علی کی جانب سے تیار کی گئی جائزہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں بیٹریوں کے ذریعے بجلی ذخیرہ کرنے کا رجحان تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ جنوری 2024 سے جون 2026 تک ملک میں بیٹریوں کی درآمد میں غیر معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ صارفین شمسی توانائی کے ساتھ بجلی ذخیرہ کرنے کے نظام کو تیزی سے اپنا رہے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق شام پانچ بجے سے رات دس بجے تک قومی بجلی کے نظام پر سب سے زیادہ دباؤ ہوتا ہے، اس لیے ان اوقات میں بیٹریوں سے بجلی فراہم کرنے والوں کو فی یونٹ 18 سے 22 روپے تک معاوضہ دینے کی تجویز دی گئی ہے۔ اس اقدام سے مہنگی بجلی خریدنے کی ضرورت کم ہو سکتی ہے اور قومی بجلی کے نظام پر بوجھ بھی گھٹے گا۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ملک میں بیٹریوں کے استعمال میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، تاہم اس شعبے کے لیے حفاظتی معیار، قومی بجلی کے نظام سے منسلک کرنے کے قواعد اور واضح ضابطہ کار ابھی تک موجود نہیں، جس پر فوری توجہ دینے کی ضرورت ہے۔
یہ بھی پڑھیں: نیپرا کا بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کو 2ارب 90کروڑ روپے جرمانہ
مشیر نے سفارش کی ہے کہ حکومت بیٹریوں کے اندراج کا قومی نظام قائم کرے، عالمی معیار کے حفاظتی اصول نافذ کرے، مقامی سطح پر بیٹریوں کی تیاری کی حوصلہ افزائی کرے اور اس شعبے میں سرمایہ کاری کے لیے آسان مالی سہولتیں فراہم کرے۔
رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ اگر بروقت مؤثر اقدامات نہ کیے گئے تو بڑے تجارتی، صنعتی اور خوشحال گھریلو صارفین قومی بجلی کے نظام پر انحصار مزید کم کر سکتے ہیں، جس سے بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی آمدنی اور مجموعی نظام کی کارکردگی متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔












