لاہور( پاک ترک نیوز) کیا پاکستان میں سولر صارفین نے بجلی کے بڑھتے اخراجات سے بچنے کے لیے نئی حکمتِ عملی اپنا لی ہے؟ کیا بیٹری اسٹوریج کا بڑھتا رجحان مستقبل میں قومی بجلی نظام پر اثر ڈال سکتا ہے؟ آئیے جانتے ہیں۔
مہنگی بجلی، بلند بلوں اور توانائی کے بحران نے شہریوں کو متبادل ذرائع اختیار کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔ جہاں پہلے زیادہ تر لوگ صرف سولر پینلز لگانے پر اکتفا کرتے تھے، اب بڑی تعداد میں صارفین بیٹری اسٹوریج سسٹمز بھی نصب کر رہے ہیں تاکہ دن میں پیدا ہونے والی بجلی کو محفوظ کر کے رات کے وقت استعمال کیا جا سکے۔
ماہرین کے مطابق نیٹ میٹرنگ کے قواعد میں تبدیلی کے بعد بہت سے صارفین اضافی بجلی گرڈ میں فروخت کرنے کے بجائے اسے اپنی بیٹریوں میں محفوظ کرنا زیادہ فائدہ مند سمجھ رہے ہیں، جس کی وجہ سے بیٹریوں کی طلب میں نمایاں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
دستیاب اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ تقریباً ڈھائی برسوں میں ملک میں ہزاروں میگاواٹ صلاحیت کی بیٹریاں درآمد کی گئیں، جن پر اربوں روپے خرچ کیے گئے۔ ماہرین اسے پاکستان میں توانائی کے استعمال کے انداز میں ایک اہم تبدیلی قرار دے رہے ہیں۔
دوسری جانب ملک میں سولر توانائی کی مجموعی صلاحیت بھی مسلسل بڑھ رہی ہے، اور توانائی کے شعبے سے وابستہ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہی رجحان جاری رہا تو آئندہ برسوں میں مزید صارفین بیٹری اسٹوریج کو ترجیح دے سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: شام کے اوقات میں بجلی دینے والوں کو زیادہ معاوضہ دینے کی سفارش
اس صورتحال کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ جب صارفین اپنی بجلی خود ذخیرہ کر کے استعمال کریں گے تو شام کے اوقات میں قومی گرڈ سے بجلی کی طلب کم ہو سکتی ہے، جس سے بجلی تقسیم کار کمپنیوں کی فروخت اور آمدن پر اثر پڑنے کا امکان ہے۔
اسی تناظر میں اطلاعات سامنے آ رہی ہیں کہ حکومت ایسے مختلف آپشنز پر غور کر رہی ہے جن کے ذریعے مستقبل میں بیٹریوں میں محفوظ بجلی کو مخصوص اوقات میں قومی گرڈ میں شامل کیا جا سکے۔ اگر ایسی پالیسی متعارف کرائی گئی تو یہ پاکستان کے بجلی کے نظام میں ایک اہم پیش رفت ثابت ہو سکتی ہے۔












