اسلام آباد ( پاک ترک نیوز) پاور سیکٹر میں اصلاحات کے حکومتی دعووں کی قلعی کھل گئی، دستاویز میں گزشتہ تین سال کے دوران بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی ناقص کارکردگی کی تفصیلات سامنے آگئیں۔دستاویز کے مطابق مالی سال 2023 سے مالی سال 2026 تک ڈسکوز کی ناقص کارکردگی کے باعث قومی خزانے کو مجموعی طور پر 803 ارب روپے کا نقصان ہوا۔
مالی سال 2023-24 کے دوران ڈسکوز نے ترسیل اور تقسیم کی مد میں 18.3 فیصد نقصانات کیے، جس کے نتیجے میں قومی خزانے کو 276 ارب روپے کا نقصان ہوا۔دستاویز کے مطابق مالی سال 2023-24 میں سب سے زیادہ نقصان لاہور الیکٹرک سپلائی کمپنی نے کیا، جس سے قومی خزانے کو 48 ارب روپے کا نقصان ہوا۔
مالی سال 2024-25 کے دوران ڈسکوز کے ترسیل اور تقسیم کے نقصانات 17.6 فیصد رہے، جبکہ ان کی ناقص کارکردگی کے باعث قومی خزانے کو مزید 265 ارب روپے کا نقصان اٹھانا پڑا۔دستاویز کے مطابق مالی سال 2024-25 کے دوران پشاور الیکٹرک سپلائی کمپنی سب سے زیادہ نقصان کرنے والی ڈسکو رہی، جس کے باعث قومی خزانے کو 87 ارب روپے کا نقصان ہوا۔
مالی سال 2025-26 کے دوران بھی ڈسکوز کے نقصانات میں نمایاں کمی نہ آ سکی۔ گزشتہ مالی سال کے دوران ڈسکوز نے مجموعی طور پر 262 ارب روپے کا نقصان کیا۔دستاویز کے مطابق مالی سال 2025-26 میں پشاور الیکٹرک سپلائی کمپنی نے قومی خزانے کو 85 ارب روپے جبکہ کوئٹہ الیکٹرک سپلائی کمپنی نے 82 ارب روپے کا نقصان پہنچایا۔
یہ بھی پڑھیں: سولر صارفین کا نیا رجحان، حکومت کے لیے نئی آزمائش؟
اعداد و شمار کے مطابق پاور سیکٹر میں اصلاحات اور بجلی کی ترسیل و تقسیم کے نظام میں بہتری کے دعووں کے باوجود ڈسکوز کے نقصانات قومی خزانے پر مسلسل بھاری بوجھ بنے ہوئے ہیں۔












