روم ( پاک ترک نیوز) اٹلی نے اسپین کے ساتھ فضائی اور بحری راستوں پر شینگن معاہدے کے تحت آزادانہ آمد و رفت کی سہولت عارضی طور پر معطل کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ یہ فیصلہ اسپین کے شہر سیوٹا میں تقریباً 60 ہزار تارکینِ وطن کی غیر معمولی آمد کے بعد کیا گیا۔
اٹلی کی وزیرِاعظم جارجیا میلونی نے کہا کہ یہ ایک غیر معمولی اور عارضی اقدام ہے، جس کا مقصد قومی سلامتی کا تحفظ اور ممکنہ خطرات سے نمٹنا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ پابندی صرف ضرورت کے مطابق محدود مدت کے لیے نافذ رہے گی تاکہ موسمِ گرما میں سیاحوں کی آمد و رفت کم سے کم متاثر ہو۔
اطلاعات کے مطابق اٹلی مکمل سرحدی بندش کے بجائے اسپین سے آنے والے یورپی یونین سے باہر کے ممالک کے شہریوں کی منتخب اور ہدفی جانچ کرے گا۔
دوسری جانب اسپین کے وزیرِاعظم پیڈرو سانچیز نے اس صورتحال کو اسپین کی علاقائی خودمختاری کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے کہا کہ انسانی اسمگلروں کی گمراہ کن معلومات کے باعث یہ بحران پیدا ہوا۔
یہ بھی پڑھیں: کیا انسان چند برسوں میں پوری کہکشاں کا سفر کر سکتا ہے؟
اسپینی حکام کے مطابق سیوٹا پہنچنے والے تارکینِ وطن کی بڑی تعداد رضاکارانہ طور پر واپس مراکش لوٹ چکی ہے، جبکہ مزید سیکڑوں افراد بھی مسلسل واپس جا رہے ہیں کیونکہ ان کے لیے اسپین کے اندر یا یورپی یونین کے دیگر ممالک تک آگے جانے کا راستہ موجود نہیں۔
صرف چوبیس گھنٹوں میں ہونے والی اس غیر معمولی آمد نے تقریباً 85 ہزار آبادی والے شہر سیوٹا کے انتظامی نظام پر شدید دباؤ ڈال دیا، جس کے بعد اسپین میں سیاسی بحران پیدا ہوا اور امریکا سمیت متعدد یورپی ممالک نے بھی اس صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا۔ بعض یورپی حلقوں نے اسپین کی شینگن رکنیت معطل کرنے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔












