لاہور( پاک ترک نیوز) پٹرول مہنگا۔۔۔ جیب خالی۔۔۔ اور اب ریلیف لینے کے لیے بھی عوام خوار حکومت نے موٹر سائیکل سواروں، رکشہ اور چنگ چی ڈرائیوروں کے لیے پٹرولیم ریلیف سکیم کا اعلان تو کردیا۔۔۔ مگر پٹرول پمپوں پر ریلیف کی فراہمی نے ایک نیا بحران کھڑا کردیا ہے۔کہیں رجسٹریشن کا مسئلہ۔۔۔ کہیں طریقہ کار کی پیچیدگی۔۔۔ اور کہیں پٹرول پمپ پر ریلیف دینے سے ہی انکار!یعنی جس عوام کو مہنگے پٹرول سے بچانے کا اعلان کیا گیا، وہی عوام اب ریلیف کے حصول کے لیے پٹرول پمپوں کے چکر لگانے پر مجبور ہے۔ادھر پٹرولیم ڈیلرز نے بھی حکومت کے طریقہ کار پر سوال اٹھا دیے ہیں۔کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ڈیلرز نے صاف کہہ دیا۔۔۔ ادھار پر پٹرول نہیں دیں گے!
یہ بھی پڑھیں: پٹرولیم ریلیف سکیم، وزیراعظم کی سہولت ڈیسک قائم کرنے کی ہدایت
ڈیلرز کا مؤقف ہے کہ حکومت نے ریلیف پیکیج پر انہیں اعتماد میں نہیں لیا، وعدے پورے نہیں ہوئے، اور اگر زور زبردستی کی گئی تو پٹرول پمپ بند کرنے پر مجبور ہوں گے۔اب ذرا حکومت کی طرف آئیے۔۔۔وزیراعظم شہباز شریف نے ریلیف سکیم کو آسان بنانے کے لیے پٹرول پمپوں پر سہولت ڈیسک قائم کرنے کی ہدایت کردی ہے۔انتظامیہ، رضاکار اور پٹرول پمپ کا عملہ شہریوں کی رجسٹریشن اور رہنمائی کرے گا۔لیکن یہاں سب سے بڑا سوال یہی ہے۔۔۔عوام کو ریلیف چاہیے یا سستا پٹرول؟ایک طرف پٹرول کی قیمت مسلسل بڑھ رہی ہے۔۔۔ دوسری طرف ریلیف کے لیے رجسٹریشن، تصدیق، انتظار اور مختلف مراحل!آخر ایک عام موٹر سائیکل سوار، جو محدود آمدن میں گھر کا چولہا جلاتا ہے، وہ ہر بار پٹرول کے لیے اتنی پیچیدگی کہاں سے برداشت کرے؟رکشہ ڈرائیور کی مشکل اس سے بھی بڑی ہے۔۔۔ پٹرول مہنگا ہوگا تو اخراجات بڑھیں گے، کرایہ بڑھائے گا تو مسافر ناراض ہوں گے، کرایہ نہیں بڑھائے گا تو اس کی اپنی آمدن متاثر ہوگی۔
اور معاملہ صرف موٹر سائیکل یا رکشہ تک محدود نہیں۔۔۔ پٹرول مہنگا ہوتا ہے تو اس کے اثرات سفر سے لے کر سامان کی ترسیل اور روزمرہ استعمال کی اشیا تک پہنچتے ہیں۔تو پھر حکومت کے لیے ایک سیدھا سا سوال ہے۔۔۔اگر عوام کو ریلیف دینے کے لیے رقم موجود ہے، تو پٹرول کی بنیادی قیمت کم کیوں نہیں کی جاتی؟کیوں ایک ہاتھ سے پٹرول مہنگا کیا جائے اور دوسرے ہاتھ سے ریلیف کی ایک ایسی سکیم دی جائے جس کے حصول کے لیے عوام کو پمپوں کے چکر لگانے پڑیں؟حکومت کو سوچنا ہوگا۔۔۔ ریلیف کا اصل مطلب کاغذ پر اعلان نہیں، عوام کی جیب پر بوجھ کم کرنا ہے۔عوام کو لمبی قطاریں، رجسٹریشن اور پیچیدہ طریقہ کار نہیں چاہیے۔۔۔عوام کو پٹرول پمپ پر سیدھا اور فوری ریلیف چاہیے۔اور شاید اس کا سب سے آسان راستہ یہی ہے۔۔۔ریلیف سکیمیں کم، پٹرول کی قیمت کم کی جائے!












