اسلام آباد ( پاک ترک نیوز) ملک میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کے باوجود حکومت نے پٹرول اور ڈیزل پر عائد ٹیکسز اور لیویز میں کوئی خاطر خواہ کمی نہیں کی، جس کے باعث عوام کو مہنگے ایندھن کا بوجھ برداشت کرنا پڑ رہا ہے۔
دستیاب تفصیلات کے مطابق پٹرول کی فی لٹر قیمت میں ٹیکسز اور مختلف مارجنز کی مد میں 133 روپے 4 پیسے وصول کیے جا رہے ہیں، جبکہ ڈیزل پر ٹیکسز اور مارجنز کی مجموعی وصولی 122 روپے 53 پیسے فی لٹر ہے۔
پٹرول اور ڈیزل دونوں پر 80 روپے فی لٹر پٹرولیم لیوی عائد ہے، جبکہ دونوں مصنوعات پر 5 روپے فی لٹر کلائمیٹ سپورٹ لیوی بھی وصول کی جا رہی ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق پٹرول پر 21 روپے 15 پیسے فی لٹر کسٹم ڈیوٹی عائد ہے، جبکہ ڈیزل پر کسٹم ڈیوٹی 15 روپے 68 پیسے فی لٹر ہے۔
یعنی پٹرول کی قیمت میں ٹیکسز اور مارجنز کا مجموعی حصہ 133 روپے 4 پیسے فی لٹر بنتا ہے، جس میں بھاری پٹرولیم لیوی، کلائمیٹ سپورٹ لیوی اور کسٹم ڈیوٹی سمیت دیگر مارجنز شامل ہیں۔اسی طرح ڈیزل کی فی لٹر قیمت میں حکومت اور متعلقہ شعبوں کی جانب سے 122 روپے 53 پیسے ٹیکسز اور مارجنز کی مد میں وصول کیے جا رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: پرانا ٹی وی بنائیں کمپیوٹر کی بڑی اسکرین
پٹرولیم مصنوعات پر عائد بھاری ٹیکسز اور لیویز کا براہ راست اثر صرف گاڑی چلانے والوں تک محدود نہیں رہتا بلکہ ایندھن مہنگا ہونے سے مال برداری، پبلک ٹرانسپورٹ، اشیائے ضروریہ کی ترسیل اور روزمرہ استعمال کی مختلف اشیا کی قیمتوں پر بھی دباؤ بڑھتا ہے۔خصوصاً ڈیزل کی قیمت میں اضافے سے زرعی شعبے، مال بردار گاڑیوں اور بین الصوبائی و بین الاضلاعی ٹرانسپورٹ کے اخراجات بڑھنے کا خدشہ رہتا ہے، جس کا بوجھ بالآخر عام صارف کو برداشت کرنا پڑتا ہے۔












