لاہور( پاک ترک نیوز) پاکستان کے 60 فیصد شہری ملکی تعلیمی نظام سے غیر مطمئن نکلے، انسٹی ٹیوٹ فار پبلک اوپینین ریسرچ کے نئے سروے میں پاکستانیوں نے تعلیمی نظام سے متعلق مختلف مسائل کی نشاندہی کردی۔سروے کے مطابق 35 فیصد پاکستانیوں نے ملکی تعلیمی نظام پر اطمینان کا اظہار کیا، جبکہ 60 فیصد شہریوں نے تعلیمی نظام سے عدم اطمینان ظاہر کیا۔سروے میں 29 فیصد پاکستانیوں نے کمرشلائزیشن اور بھاری فیسوں کو تعلیمی نظام کا بنیادی مسئلہ قرار دیا۔19 فیصد شہریوں کے مطابق ناقص معیارِ تعلیم تعلیمی نظام کا اہم مسئلہ ہے، جبکہ 15 فیصد نے تعلیم تک رسائی میں مشکلات کو اہم مسئلہ قرار دیا۔
سروے میں 14 فیصد پاکستانیوں نے ناقص امتحانی نظام کو تعلیمی نظام کے اہم مسائل میں شمار کیا۔11 فیصد شہریوں نے فنی اور پیشہ ورانہ تعلیم کی کمی کو اہم مسئلہ قرار دیا، جبکہ 9 فیصد پاکستانیوں کے مطابق سیاسی مداخلت تعلیمی نظام کے زوال کی ایک اہم وجہ ہے۔سروے کے نتائج کے مطابق پاکستانی شہریوں کی ایک بڑی تعداد تعلیمی نظام میں مہنگی تعلیم، معیارِ تعلیم، تعلیم تک رسائی، امتحانی نظام اور فنی تعلیم کی کمی جیسے مسائل کو اہم سمجھتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سوئٹزرلینڈ کی زیورخ یونیورسٹی میں تحقیقی وظائف کے لیے درخواستیں طلب
انسٹی ٹیوٹ فار پبلک اوپینین ریسرچ کے مطابق سروے میں شہریوں سے ملکی تعلیمی نظام کے معیار اور اسے درپیش اہم مسائل کے بارے میں رائے لی گئی۔












