ماسکو ( پاک ترک نیوز) روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن کی سکیورٹی دنیا کے سخت ترین حفاظتی نظاموں میں شمار ہوتی ہے۔۔۔
ایسا حفاظتی حصار کہ پوتن جہاں جائیں، وہاں سکیورٹی کے کئی دائرے پہلے ہی قائم کردیئے جاتے ہیں۔۔۔کھانے سے لے کر سفر تک، ہر چیز کی جانچ۔۔۔اور خطرہ اتنا سنگین کہ عمارتوں کی چھتوں پر بھی خصوصی نشانہ باز تعینات کیے جاتے ہیں۔دیکھیے پوتن کی ناقابلِ تسخیر سکیورٹی کا حیران کن نظام۔۔۔دنیا کے طاقتور ترین رہنماؤں میں شمار ہونے والے روسی صدر ولادیمیر پیوٹن ۔۔۔ان کی حفاظت کے لیے صرف چند محافظ نہیں بلکہ سکیورٹی کا ایک مکمل حصار ہر وقت ان کے گرد موجود رہتا ہے۔غیر ملکی دورے پر پوتن کی حفاظت مزید سخت کردی جاتی ہے۔سکیورٹی اہلکار صدر کے گرد چار حفاظتی دائرے قائم کرتے ہیں۔
پہلا دائرہ ذاتی محافظوں کا۔۔۔دوسرا ایسا حفاظتی حلقہ جو عام لوگوں کی نظروں سے اوجھل رہتا ہے۔۔۔تیسرا دائرہ ہجوم کے گرد قائم کیا جاتا ہے تاکہ کوئی مشکوک شخص قریب نہ آسکے۔۔۔جبکہ چوتھے دائرے میں اردگرد کی عمارتوں کی چھتوں پر خصوصی نشانہ باز تعینات کیے جاتے ہیں۔پوتن کے سفر کے دوران سڑکیں بند۔۔۔ٹریفک روک دی جاتی ہے۔۔۔اور بعض اوقات فضا میں بغیر اجازت ڈرون کی پرواز بھی روک دی جاتی ہے۔لیکن سب سے حیران کن معاملہ پوتن کے کھانے پینے کا ہے۔برطانوی نشریاتی ادارے کی رپورٹ کے مطابق پیوٹن کے کھانے اور مشروبات کو پہلے خصوصی سکیورٹی اہلکار چیک کرتے ہیں۔غیر ملکی دورے کے دوران تو پوتن کی ٹیم اپنی کھانے پینے کی اشیا بھی ساتھ لے جاتی ہے۔یہاں تک کہ اگر کسی تقریب میں مشروب پیش کیا جائے تو پوتن کے لیے الگ بوتل استعمال کی جاتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: امریکا کا خلا میں پہلا جنگی ہتھیار تعینات کرنے کا اعلان، چین اور روس کے لیے بڑا انتباہ
پیوٹن کی سکیورٹی کا ایک اور غیر معمولی پہلو موبائل فون سے دوری ہے۔روسی صدر نے خود بھی ماضی میں کہا کہ وہ موبائل فون استعمال نہیں کرتے۔ان کے رابطے کے لیے مخصوص سرکاری ذرائع موجود ہیں۔ماہرین کے مطابق پوتن انٹرنیٹ اور جدید مواصلاتی آلات کے حوالے سے انتہائی محتاط ہیں، کیونکہ ان کے ذریعے معلومات کی نگرانی یا رسائی کا خدشہ رہتا ہے۔صدر کے دن کا آغاز بھی عام انداز میں نہیں ہوتا۔رپورٹس کے مطابق انہیں دنیا، روس اور ملک کی طاقتور اشرافیہ سے متعلق الگ الگ سکیورٹی بریفنگز دی جاتی ہیں، جن کی بنیاد پر وہ اپنے دن کی اہم ترجیحات طے کرتے ہیں۔اور پیوٹن کی حفاظت میں روسی صدارتی سکیورٹی سروس کے ساتھ قومی محافظ دستے کا بھی اہم کردار ہے۔یعنی روسی صدر جہاں جاتے ہیں۔۔۔ سکیورٹی پہلے پہنچتی ہے، راستے محفوظ کیے جاتے ہیں، ہر چیز کی جانچ ہوتی ہے۔۔۔اور پھر ولادیمیر پیوٹن کا قافلہ منزل کی طرف روانہ ہوتا ہے۔











