اسلام آباد ( پاک ترک نیوز) پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ مکہ دفاعی معاہدے کے تمام امور کو حتمی شکل دینے کے لئے باہمی مشاورت میں مصروف ہیں۔چنانچہ اس مرحلے میں مکہ معاہدے میں کسی اور ملک کی شمولیت ممکن نہیں ہے اور نہ ہی اس حوالے سے کسی قسم کی بات چیت ہو رہی ہے۔ان خیالات کا اظہار پاکستان کے دفتر خارجہ کے ترجمان سجاد حیدرنے جمعرات کو اسلام آباد میںمعمول کی ریس بریفنگ کے دوران سوالوں کے جواب دیتے ہوئے کیا۔
مکہ دفاعی معاہدے میں دیگر ممالک کی شمولیت کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں سجاد حیدر نے کہا کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ اس وقت اس اتحاد کا حصہ ہیں۔ان ملکوں کے مابین مختلف سطحوں پر باقاعدگی سے ملاقاتیں اور مشاورت کا سلسلہ جاری ہے اور تینوں ملک مسلسل رابطے میں ہیں۔ تاہم فی الحال مکہ معاہدے میں توسیع یا نئے ممالک کو شامل کرنے کی کوئی تجویز زیر غور نہیں۔انھوں نے کہا کہ سب سے پہلے ان تینوں ممالک کو مکہ دفاعی معاہدے کے تحت اپنے موجودہ تعاون اور تنظیمی ڈھانچے کو مزید مضبوط بنانا ہے۔ جس کے بعد مستقبل میں دیگر ممالک کے لیے اتحاد میں شامل ہونے کا دروازہ کھل سکتا ہے جو یکساں نقطہ نظر اور ضروریات رکھتے ہوںگے۔مزید براں اتحاد میں نئے ارکان کی شمولیتکا فیصلہ وقت آنے پر تینوں ممالک باہمی مشاورت سے کریں گے۔
یہ بھی پڑھیں: 1120 ارب کی ٹیکس چوری ، 500 سے زائد کمپنیوں کے خلاف تحقیقات شروع
ترجمان دفتر خارجہ کا یہ بھی کہنا تھا کہ فی الوقت اس موضوع پر کوئی بات چیت نہیں ہو رہی۔ اس لیے اس مرحلے پر نئے ممالک کی شمولیت کا سوال بھی قبل از وقت ہے۔












