اسلام آباد ( پاک ترک نیوز) اسلام آباد میں 1120 ارب روپے کی مبینہ ٹیکس چوری کے معاملے پر وفاقی تحقیقاتی ادارہ متحرک ہوگیا، 500 سے زائد کمپنیوں کے خلاف تحقیقات شروع کردی گئیں۔ذرائع کے مطابق ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل شمالی زون کی سربراہی میں پانچ رکنی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم قائم کردی گئی ہے، جس میں ڈپٹی ڈائریکٹر محمد افضل خان نیازی، ڈپٹی ڈائریکٹر فیضان الحق اور انسپکٹر فہیم مصطفیٰ راجا بھی شامل ہیں۔
ایف آئی اے نے تحقیقات کے سلسلے میں متعدد کمپنیوں کو نوٹسز جاری کردیئے ہیں اور کمپنی مالکان یا انتظامیہ کو متعلقہ ریکارڈ کے ساتھ طلب کیا گیا ہے۔ذرائع کے مطابق مالاکنڈ کی خوردنی تیل سے متعلق کمپنی میسرز یاسمین نور کو بھی نوٹس جاری کرکے آج پیش ہونے کا حکم دیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: 1120 ارب کی ٹیکس چوری ، 500 سے زائد کمپنیوں کے خلاف تحقیقات شروع
کمپنی انتظامیہ کو فیکٹری کے قیام سے متعلق مکمل ریکارڈ ساتھ لانے کی ہدایت کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ کمپنی سے یہ بھی پوچھا جائے گا کہ کتنا مال درآمد کیا گیا، درآمد شدہ مال کہاں استعمال یا فروخت کیا گیا، کتنا ٹیکس ادا کیا گیا اور رقوم کی ترسیل کس طرح کی گئی۔ذرائع کا کہنا ہے کہ مالاکنڈ اور خیبر پختونخوا کے ٹیکس فری علاقوں میں مبینہ طور پر بڑے پیمانے پر ٹیکس چوری کا انکشاف ہوا ہے۔ابتدائی تحقیقات میں 108 کمپنیوں کی جانب سے مجموعی طور پر 389 ارب روپے کی مبینہ ٹیکس چوری سامنے آنے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔
ایف آئی اے نے ابتدائی مرحلے میں 108 کمپنیوں کو نوٹسز جاری کیے ہیں، جبکہ مجموعی طور پر 500 سے زائد کمپنیوں کے معاملات کی چھان بین کی جارہی ہے۔












