تہران ( پاک ترک نیوز) ایرانی صدر مسعود پزشکیان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت اور ایران کا مؤقف پیش کرنے کے لیے نیویارک روانہ ہوگئے۔روانگی سے قبل میڈیا سے گفتگو میں مسعود پزشکیان نے کہا کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں ایرانی عوام کی شکایات، پیش آنے والے جرائم اور پیدا ہونے والے عدم اعتماد کا معاملہ اٹھایا جائے گا۔ایرانی صدر کا کہنا تھا کہ ایران کئی مرتبہ مذاکرات کی میز پر گیا اور معاہدوں پر دستخط کیے، لیکن بدقسمتی سے دنیا نے دیکھا کہ وعدوں اور معاہدوں کی پاسداری نہیں کی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: امریکی صدر کا ایران کو الٹی میٹم
مسعود پزشکیان نے کہا کہ لوگوں کو طاقت کے ذریعے سرِ تسلیم خم کرنے پر مجبور نہیں کیا جاسکتا، غزہ، فلسطین، شام، یمن اور ایران سمیت مختلف علاقوں میں ہونے والے واقعات اس حقیقت کو ظاہر کرتے ہیں۔انہوں نے الزام عائد کیا کہ مخالفین ایرانی عوام کو جھکنے پر مجبور کرنے کے لیے ہر ممکن راستہ بند کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، فوجی ذرائع سے مقاصد حاصل کرنے میں ناکامی کے بعد اب دیگر ذرائع استعمال کیے جارہے ہیں۔ایرانی صدر کے مطابق زمینی اور فضائی راستے بند کیے جاتے ہیں، اندرونی اختلافات کو ہوا دینے کی کوشش کی جاتی ہے، جبکہ ذرائع ابلاغ اور نسلی گروہوں کو استعمال کرکے ایران کو اندر سے کمزور کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔












