تہران ( پاک ترک نیوز) جنگ ختم ہوئی یا خطرہ ابھی باقی ہے؟ اسرائیل کے لیے ایران کا میزائل خطرہ کم ہونے کے بجائے ایک بار پھر سرخیوں میں آ گیا ہے! اسرائیلی انٹیلی جنس کا دعویٰ ہے کہ ایران کے پاس اب بھی ایسے 1700 بیلسٹک میزائل موجود ہیں جو اسرائیل کے بڑے شہروں اور فوجی اڈوں کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔ لیکن کہانی صرف میزائلوں تک محدود نہیں، ایران کے پاس ڈرونز کا ایک بہت بڑا ذخیرہ بھی موجود ہونے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ڈیفنس سکیورٹی ایشیا کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی انٹیلی جنس کے تازہ جائزے میں ایران کے پاس تقریباً 1700 ایسے بیلسٹک میزائلوں کی موجودگی کا اندازہ لگایا گیا ہے جن کی مار اسرائیل تک پہنچ سکتی ہے۔
رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ان میزائلوں کی رینج 1500 سے 2000 کلومیٹر تک ہے، جبکہ ایران کے پاس خلیج فارس میں موجود امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنانے کے لیے ہزاروں کم اور درمیانے فاصلے کے میزائل بھی موجود ہیں۔اور صرف یہی نہیں! اسرائیلی اندازوں کے مطابق ایران کے پاس مختلف اقسام کے تقریباً 80 ہزار ڈرونز بھی موجود ہیں۔اسرائیلی جائزے کے مطابق ایران نے اپنے میزائلوں اور ان کے اہم پرزوں کا بڑا ذخیرہ پہاڑوں کے اندر زیرِ زمین محفوظ تنصیبات میں رکھا، جس کی وجہ سے بڑے پیمانے پر فوجی حملوں کے باوجود اس کا میزائل ذخیرہ مکمل طور پر ختم نہیں ہو سکا۔رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ایران نے جنگ بندی کے بعد محدود پیمانے پر نئے میزائل تیار کیے، تاہم طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں کی پیداوار پہلے کے مقابلے میں بہت کم ہو چکی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: آسٹریلوی کرکٹ کا 8 سال پرانا بال ٹیمپرنگ اسکینڈل پھر زندہ، عثمان خواجہ کے تہلکہ خیز انکشافات
اسرائیلی انٹیلی جنس کے مطابق ایران اگر کئی روز تک مسلسل میزائل حملے کرے تو اسرائیل کے دفاعی نظام کو سینکڑوں مہنگے انٹرسیپٹر میزائل استعمال کرنا پڑ سکتے ہیں۔ اس سے دفاعی اخراجات اور میزائلوں کے ذخائر پر بھی دباؤ بڑھ سکتا ہے۔یعنی سوال صرف یہ نہیں کہ ایران کے پاس کتنے میزائل ہیں، بلکہ یہ بھی ہے کہ مسلسل حملوں کی صورت میں انہیں روکنے کی صلاحیت کتنی دیر برقرار رہ سکتی ہے؟کیا ایران کا میزائل ذخیرہ خطے میں طاقت کا توازن بدل سکتا ہے؟ یا یہ اسرائیل کی دفاعی حکمتِ عملی پر دباؤ بڑھانے والا ایک نیا چیلنج ہے؟ اپنی رائے کمنٹس میں ضرور بتائیں۔












