اسلام آباد (پاک ترک نیوز )پاکستان مہنگے کوئلے سے بجلی پیدا کرنے کے طویل مدتی معاہدوں میں پھنسنے کے خطرے سے دوچار ہے، کیونکہ گھروں اور صنعتوں میں سولر توانائی کے بڑھتے استعمال سے قومی گرڈ سے بجلی کی طلب کم ہو رہی ہے، جبکہ بجلی گھروں کو کپیسٹی پیمنٹس اور ڈالر سے منسلک مالی ادائیگیوں کا بوجھ برقرار ہے۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ بروقت پالیسی اصلاحات نہ ہوئیں تو توانائی کے شعبے کا مالی بحران مزید سنگین ہو سکتا ہے۔ ان خیالات کا اظہار اسلام آباد میں پائیدار ترقی پالیسی ادارے کے زیر اہتمام ’’کوئلے سے صاف توانائی کی جانب، منصفانہ توانائی منتقلی‘‘ کے موضوع پر پالیسی مکالمے میں کیا گیا۔
مباحثے میں پاکستان کے مستقبل کے توانائی نظام کے حوالے سے دو مختلف تجاویز سامنے آئیں۔ ایک تجویز کے مطابق مہنگے درآمدی کوئلے کے بجلی گھروں کو بین الاقوامی مالی معاونت کے ذریعے قبل از وقت بند کیا جائے، جبکہ دوسری رائے یہ تھی کہ انہیں تھر کے مقامی کوئلے پر منتقل کرکے درآمدی ایندھن پر انحصار کم کیا جائے۔
سابق وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی ملک امین اسلم نے کہا کہ پاکستان کا اصل مسئلہ مالی وسائل کی کمی نہیں بلکہ مہنگے معاہدوں اور بااثر مفادات کے خلاف اصلاحات کے لیے سیاسی عزم کا فقدان ہے۔ ان کے مطابق غیر استعمال شدہ بجلی گھروں کو بھی کپیسٹی پیمنٹس کی ادائیگی صارفین پر اضافی بوجھ ڈال رہی ہے۔
ملک امین اسلم نے کہا کہ عوام نے چھتوں پر سولر پینلز اور بیٹریاں نصب کرکے توانائی کی منتقلی میں حکومت سے پہلے قدم اٹھایا، جبکہ حکومت اب بھی طویل مدتی بجلی خریداری معاہدوں کی پابند ہے۔ انہوں نے کوئلے کے بجلی گھروں کی قبل از وقت بندش کے لیے ایشیائی ترقیاتی بینک کے انرجی ٹرانزیشن میکانزم سمیت عالمی مالیاتی ذرائع سے فائدہ اٹھانے پر زور دیا۔
ماہرین کے مطابق چین پاکستان اقتصادی راہداری کے تحت چین کے تعاون سے قائم سات کوئلے کے بجلی گھر بھی مالی دباؤ کا اہم سبب بن رہے ہیں۔ ان بجلی گھروں کا کم استعمال، ڈالر سے منسلک ادائیگیاں اور کپیسٹی پیمنٹس بجلی کے نظام پر بوجھ بڑھا رہی ہیں۔
رینیوایبلز فرسٹ کے محمد باسط غوری نے کہا کہ سستی شمسی بجلی کے باعث درآمدی کوئلے کے بجلی گھر اپنی مسابقت کھو رہے ہیں۔ ان کے مطابق ساہیوال کول پاور پلانٹ کی قبل از وقت بندش پر مذاکرات کے ذریعے مستقبل میں اربوں ڈالر کی کپیسٹی پیمنٹس سے بچا جا سکتا ہے۔ انہوں نے سرمایہ کاروں کے منافع اور معاہدوں کی ازسرنو تشکیل یا بجلی گھروں کی جگہوں کو قابلِ تجدید توانائی اور بیٹری اسٹوریج کے لیے استعمال کرنے کی تجاویز دیں۔
تاہم پرائیویٹ پاور اینڈ انفراسٹرکچر بورڈ کے علی نواز لغاری نے کوئلے کے منصوبوں کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ جب ملک میں بجلی کی شدید قلت تھی اور متبادل ذرائع و ترسیلی نظام ناکافی تھے، اس وقت ان منصوبوں نے بجلی کی فراہمی میں اہم کردار ادا کیا۔ ان کے مطابق درآمدی کوئلے کے بجلی گھروں کو تھر کے مقامی کوئلے پر منتقل کرنے سے ایندھن کی درآمد کم اور زرمبادلہ کی بچت ممکن ہے۔
دوسری جانب پالیسی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ فار ایکویٹیڈ ڈیولپمنٹ کے سربراہ بدر عالم نے خبردار کیا کہ مقامی کوئلے پر منتقلی سے پاکستان کا فوسل فیول پر انحصار طویل ہو سکتا ہے اور کوئلہ پیدا کرنے والے علاقوں میں ماحولیاتی دباؤ بڑھ سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سولر بجلی کے بڑھتے استعمال سے گرڈ کی فروخت کم ہو رہی ہے، جس کے نتیجے میں بجلی کے مستقل اخراجات کم صارفین پر تقسیم ہونے اور ٹیرف مزید بڑھنے کا خدشہ ہے۔
اقوام متحدہ کے اقتصادی و سماجی کمیشن برائے ایشیا و بحرالکاہل کے مائیکل ولیمسن نے کہا کہ پاکستان کے لیے کوئلے کے بجلی گھروں کو بند کرنا اس لیے بھی مشکل ہے کہ ان میں سے بیشتر 2015 کے بعد قائم ہوئے اور ان پر بھاری مالی واجبات باقی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ایک مشترکہ تحقیق میں کوئلے کے بجلی گھروں کے انفراسٹرکچر کو سولر، ونڈ انرجی اور بیٹری اسٹوریج کے لیے استعمال کرنے کے امکانات کا جائزہ لیا گیا ہے۔












