لاہور( پاک ترک نیوز) پاکستان کا جے ایف 17 تھنڈر اور بھارت کا تیجس آمنے سامنے۔جدید ریڈار، طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل اور عالمی مارکیٹ میں کامیابی، روسی دفاعی ماہر نے بھارتی طیارے کی صلاحیتوں پر سوال اٹھا دیے۔پاکستان کا جے ایف 17 تھنڈر ایک بار پھر عالمی دفاعی توجہ کا مرکز بن گیا ، روسی دفاعی تجزیہ کار ایگور کوروچینکو نے بھارتی لڑاکا طیارے تیجس مارک ون کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ یہ طیارہ چینی ایف سی ون، یعنی جے ایف 17 کا بھی بمشکل مقابلہ کرتا ہے۔
دفاعی تجزیے کے مطابق پاکستان کو اس مقابلے میں سب سے بڑی برتری جدید ٹیکنالوجی کی بروقت فراہمی اور آپریشنل تیاری کے حوالے سے حاصل ہے۔جے ایف 17 بلاک تھری میں جدید AESA ریڈار نصب ہے، جبکہ پی ایل 15 ای میزائل اسے طویل فاصلے سے دشمن کے طیاروں کو نشانہ بنانے کی صلاحیت فراہم کرت…
یہ بھی پڑھیں: مہنگائی کی شرح 12.31 فیصد تک پہنچ گئی، ٹماٹر اور ایل پی جی عوام کی پہنچ سے مزید دور
دوسری جانب بھارت کے تیجس مارک ون اے میں بھی جدید ریڈار اور ہتھیاروں کی تنصیب کا منصوبہ ہے، لیکن امریکی ساختہ انجنوں کی فراہمی میں تاخیر نے بھارتی فضائیہ کے منصوبوں کو مشکلات سے دوچار کر رکھا ہے۔بھارت نے تیجس مارک ون اے کے 180 طیاروں کے آرڈر دے رکھے ہیں، تاہم آرڈر دینا اور طیاروں کو مکمل آپریشنل حالت میں فضائیہ کے حوالے کرنا دو مختلف معاملات ہیں۔پاکستان کا جے ایف 17 نہ صرف اپنی فضائیہ کا حصہ ہے بلکہ میانمار، نائیجیریا اور آذربائیجان جیسے ممالک کو بھی برآمد کیا جا چکا ہے، جو اس پروگرام کی عالمی قبولیت کا ثبوت ہے۔
ادھر روسی دفاعی تجزیہ کار نے بھارت کو ایس یو 57 ای اسٹیلتھ طیارے خریدنے کی تجویز بھی دی ہے، جس میں ابتدائی طور پر 50 طیاروں کی خریداری اور بعد میں لائسنس کے تحت مزید 450 طیاروں کی تیاری کا تصور پیش کیا گیا ہے۔ تاہم یہ تجویز ہے، کوئی طے شدہ بھارتی دفاعی معاہدہ نہیں۔












