
از: سہیل شہریار
پاکستان نے پچھلی اتوار کو اپنا پہلا ہائپر اسپیکٹرل سیٹلائٹ (ایچ۔ ایس۔1) ایک چینی لانچ سینٹر سےخلا میں پہنچایا ہے۔ یہ جدید ٹیکنالوجی کے حوالے سے ملک کی خلائی ایجنسی کی ایک اہم کامیابیہے۔
ہائپر اسپیکٹرل امیجنگ کیا ہے اور اس سے ملک کے اندر مختلف شعبہ ہائے زندگی کیسے مستفید ہونگے ۔ہم آپکو اس سے آگاہ کریں گے۔
ہائپر اسپیکٹرل امیجنگ ایک قسم کی جدید کیمرہ ٹیکنالوجی ہے جو مصنوعی سیاروں میں زمین اور خلا کا مطالعہ کرنے کے لیے استعمال ہوتی ہے۔مصنوعی سیاروں کے عام کیمروں کے برعکس جو صرف چند رنگوں جیسے سرخ، سبز اور نیلےکو ہی پکڑتے ہیں۔ ہائپر اسپیکٹرل کیمرے سیکڑوں انتہائی تنگ بینڈز کے رنگوں کو بھی پکڑتے ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ وہ روشنی میں انتہائی باریک تفریق کا پتہ لگاسکتے ہیں جو انسانی آنکھ یا عام سیارچے بھی نہیں دیکھ سکتے۔
https://www.youtube.com/watch?v=ie28YlMGZc8
پاکستان اسپیس اینڈ اپر ایٹموسفیئر ریسرچ کمیشن (سپارکو) کی فراہم کردہ معلومات کے مطابق ہائپر اسپیکٹرل مصنوعی سیارہ کیونکہ باریک بینی سے تصویر کشی کے لئے بنایا گیا ہے ۔اس لئے یہ زمین، پودوں، پانی اوراشیا کے تجزیہ کے لیے بے مثال سہولت کا حامل ہے۔چنانچہ یہ جدید ٹیکنالوجی پاکستان کو درست زراعت، سخت ماحولیاتی نگرانی، شہری منصوبہ بندی، اور فعال ڈیزاسٹر مینجمنٹ میں نمایاں بہتری کے مواقع فراہم کرے گی۔ یہی نہیں ایچ ایس۔1 جنگلات کی کٹائی، ماحولیاتی آلودگی اورگلیشئر پگھلنے کا سراغ لگانے، فصلوں کی جانچ، مٹی کی نمی اور پانی کے معیار کا درست طریقے سے نقشہ بنانے کے لیے قوم کو بااختیار بنائے گا۔مزید براںیہ مصنوعی سیارہ سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ جیسے تباہ کن واقعات کے حوالے سے خاص طور پر شمالی علاقوں میں ابتدائی انتباہی نظام اور آفات کے بعد کی تشخیص کو بہتر بنائے گا۔












