بدھ , 28 اکتوبر , 2026
  • لاگ ان کریں
پاک ترک نیوز
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • ترکیہ
  • دنیا
  • کھیل
  • معیشت
  • کالم/بلاگز
  • ٹیکنالوجی
  • تعلیم و صحت
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • ترکیہ
  • دنیا
  • کھیل
  • معیشت
  • کالم/بلاگز
  • ٹیکنالوجی
  • تعلیم و صحت
No Result
View All Result
پاک ترک نیوز
No Result
View All Result
Home تازہ ترین

گرین لینڈ کے وسائل کی امریکی لوٹ مار کے سو سال

9 مہینے پہلے
A A
One hundred years of American plunder of Greenland's resources
Share on Facebookwhatsapp

از: سہیل شہریار

صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا یہ اصرار کہ امریکہ گرین لینڈ کو حاصل کرے گا "چاہے وہ اسے پسند کریں یا نہ کریں” امریکہ اور آرکٹک کے سب سے بڑے جزیرے کے درمیان ہم آہنگ اور اکثر پیچیدہ تعلقات کا تازہ ترین باب ہے – جو ایک صدی سے زیادہ پر محیط ہے۔مگر آج تلخ حالات سے گزر رہا ہے۔امریکی صدر کا اصرار ہے کہ گرین لینڈ امریکی سلامتی کے لئے ناگزیر ہے اور یہ بھی کہ امریکہ کو دوسری جنگ عظیم کے بعد اسے خالی نہیں کرنا چاہیے تھا۔
14 جنوری 2026 کو، امریکی، ڈنمارک اور گرین لینڈ کے حکام نے ٹرمپ کے تبصروں پر بات کرنے کے لیے وائٹ ہاؤس میں ملاقات کی۔ ڈنمارک کے وزیر خارجہ نے بعد میں صحافیوں کو بتایا کہ جب کہ دونوں فریقوں میں "بنیادی اختلاف” ہے، وہ "بات چیت جاری رکھیں گے۔ اور یہ بھی کہ گرین لینڈ نے ڈنمارک کے ساتھ رہنے کے اپنے فیصلے کے بارے میں امریکی حکام کو آگاہ کر دیا ہے۔
1894 میں، اس نے چھ گرین لینڈرز کو اپنے ساتھ نیویارک آنے پر راضی کیا، مبینہ طور پر ان سے بدلے میں اوزار اور ہتھیار دینے کا وعدہ کیا۔ چند مہینوں میں، دو کے علاوہ تمام انوئٹ بیماریوں سے مر گئے۔
1894 میں سب سے پہلے امریکی بحریہ کا ایک افسر، رابرٹ پیری اس برفانی جزیرے تک پہنچا۔ اس نے چھ گرین لینڈرز کو اپنے ساتھ نیویارک آنے پر راضی کیا۔اور مبینہ طور پر ان سے بدلے میں اوزار اور ہتھیار دینے کا وعدہ کیا۔ چند مہینوں میں، دو کے علاوہ تمام انوئٹ بیماریوں سے مر گئے۔
تب پیری اپنے ساتھ کیپ یارک کے لوہے کے میٹیورائٹ کے تین بڑے ٹکڑے بھی لائے۔ یہ دھات کا ایک انوکھا ذریعہ تھا جسے گرین لینڈر ز صدیوں سے اوزار بنانے کے لیے استعمال کر رہےتھے۔ ان میں سب سے بڑا ٹکڑا، 34 ٹن وزنی تھا۔ آج یہ امریکن میوزیم آف نیچرل ہسٹری میں پڑا ہے۔ جسے عجائب گھر نے پیری سے 40ہزار ڈالر میں خریدا تھا۔چنانچہ امریکہ کی جانب سے گرین لینڈ کی معدنیات کی لوٹ مار کا سلسلہ ایک صدی سے زیادہ پرانا ہے۔


دوسری جنگ عظیم میں گرین لینڈ کوجنگی حکمت عملی کے تحت امریکی فوج کے لیےاہم بنا دیا ۔جس کے نتیجے میں 1941 کے موسم بہار میں ڈنمارک نے ایک معاہدے پر دستخط کیے جس کے تحت امریکی فوج کو گرین لینڈ تک رسائی دی گئی تاکہ جزیرے کو نازی جرمنی سے بچانے اور یورپ میں جاری جنگ میںاتحادی افواج کی مدد کی جا سکے۔ وہ معاہدہ آج بھی نافذ العمل ہے۔تب سینکڑوں امریکی فوجیوں کو جنوبی گرین لینڈ کے ساحل پر واقع ایک دور افتادہ قصبے ایو ی ٹوٹ میں تعینات کیا گیا تھا۔ جہاں انہوں نے ایلومینیم کو گلانےکے لئے استعمال کئے جانے والے عنصر کرائیولائٹ کی دنیا کی سب سے بڑی کان کا کنٹرول سنبھالا ۔اور امریکہ نے اس سے جی بھر کر کرائیولائٹ نکالا۔
امریکہ اور ڈنمارک نے گرین لینڈ میں ارضیاتی سروے کیے ہیں اور چٹانی، بے نقاب ساحلوں کے ساتھ اہم معدنیات کے ذخائر کی نشاندہی کی ہے۔ تاہم، اب تک کی زیادہ تر کان کنی صرف کرائیولائٹ، سیسہ، لوہے، تانبے اور زنک کے چھوٹے پیمانے پر نکالنے تک محدود رہی ہے۔ جبکہ آج کل معدنی اینارتھوسائٹ نکالنے والی صرف ایک چھوٹی کان چل رہی ہے۔


گرین لینڈ کے فوجی مقاصد کے لئے استعمال کی معراج سرد جنگ کے دوران 1950 کی دہائی تھی۔ جب آرکٹک پر سوویت میزائلوں اور بمبار طیاروں کی آمد کے خطرے کا مقابلہ کرنے کے لیے امریکہ نے تقریباً 5,000 فوجی، 280,000 ٹن سامان، 500 ٹرک اور 129 بلڈوزر شمال مغربی گرین لینڈ کے ساحل پر ماسکو کے شمال مغرب میں 2,752 میل کے فاصلے پراتارے ۔ اس نے امریکہ اور نیٹو کے مشترکہ منصوبے پراجیکٹ آئس ورم کو جنم دیا۔جس کے لئے امریکی فوج نے برف کی چادر کے اندر گہری خندقیں کھود کر اور پھر انہیں برف سے ڈھانپ کر ایٹمی طاقت سے چلنے والا اڈہ بنایا ۔ جسے کیمپ سنچری کا نام دیا گیا۔اور وہ 1966تک فعال رہا۔ اس کیمپ کا ہزاروں ٹن فضلہ برف کی چادر کے اندر رہ گیا۔ جو آج برف کی چادر کی سطح سے 100 فٹ سے زیادہ نیچے ہے۔
دولت اور امریکی سلامتی کے ذرائع کے طور پر جزیرے پر امریکی کنٹرول کے ٹرمپ کے مطالبات بھی اسی طر ح قلیل مدتی ہیں۔ آج کی تیزی سے گرم ہوتی ہوئی آب و ہوا میں گرین لینڈ میںدرجہ حرارت کی تبدیلی کے ڈرامائی اثرات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔کیونکہ انسانیت کے لیے گرین لینڈ کی سب سےزیادہ اہمیت اس کا اسٹریٹجک مقام یا معدنی وسائل نہیں بلکہ اس کی برف ہے۔
ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ اگر انسانی سرگرمیاں کرہ ارض کو اسی طرح گرم کرتی رہیںاور گرین لینڈ کی برف کی چادر پگھلتی رہی تو سمندر کی سطح انتہائی بلند ہو جائے گی ۔ اس جزیرے کی برف کی چادر کا ایک حصہ بھی کھو دینا جس میں عالمی سطح پر سطح سمندر کو 24 فٹ بلند کرنے کے لیے کافی پانی موجود ہے۔دنیا بھر کے ساحلی شہروں اور جزیروں کے ممالک کو تباہ کر دے گا۔
چنانچہ آج سب سے اہم حکمت عملی یہ ہے کہ گرین لینڈ کی برف کی چادر کی حفاظت کی جائے بجائے اس کے کہ اس آرکٹک جزیرے کو لوٹنے کے منصوبے بنائےجائیں۔

موضوعات : americadonaldtrumpGreenlandmineralstrump
ShareSend

متعلقہ خبریں

Strict conditions for air taxi service in the US
تازہ ترین

امریکا میں ایئر ٹیکسی سروس کے لیے سخت شرائط

28 اکتوبر , 2026
Global powers have their eyes on Pakistan's mineral reserves, says Maulana Fazl-ur-Rehman.
تازہ ترین

عالمی طاقتوں کی پاکستان کے معدنی ذخائر پر نظر ہے،مولانا فضل الرحمان

28 اکتوبر , 2026
Middle Eastern countries can resolve their problems without the United States, says Iranian President.
تازہ ترین

مشرقِ وسطیٰ کے ممالک امریکہ کے بغیر اپنے مسائل حل کرسکتے ہیں، ایرانی صدر

28 اکتوبر , 2026
Trump has termed negotiations with Iran a waste of time.
تازہ ترین

ٹرمپ نے ایران سے مذاکرات کو وقت کا ضیاع قرار دے دیا

28 اکتوبر , 2026
Iran has developed missiles capable of reaching Europe and American cities, claims Donald Trump.
تازہ ترین

ایران نے یورپ اور امریکی شہروں تک پہنچنے والے میزائل تیار کر لیے،ڈونلڈ ٹرمپ کا دعویٰ

27 اکتوبر , 2026
ایران پر نئے حملوں کے لیے اسرائیل کا دباؤ، امریکا فی الحال رضامند نہیں
اہم ترین 3

ایران پر نئے حملوں کے لیے اسرائیل کا دباؤ، امریکا فی الحال رضامند نہیں

26 اکتوبر , 2026
اگلی خبر
Basant preparations accelerate, decision to auction roofs of government schools

بسنت کی تیاریوں میں تیزی، سرکاری سکولوں کی چھتیں نیلام کرنے کا فیصلہ

یہ بھی پڑھیں

Islamabad’s model jail will become operational within three days; initially, 1,500 prisoners will be transferred.

اسلام آباد کی ماڈل جیل تین روز میں فعال ہو جائے گی، ابتدائی طور پر 1500 قیدی منتقل ہوں گے

28 اکتوبر , 2026
Reforms in Islamabad's government schools, Prime Minister orders to resolve issues within a week

اسلام آباد کے سرکاری اسکولوں میں اصلاحات، وزیراعظم کا ایک ہفتے میں مسائل حل کرنے کا حکم

28 اکتوبر , 2026
An aircraft with a range of 4,700 miles

4 ہزار 700 میل اڑنے والا طیارہ

28 اکتوبر , 2026
Strict conditions for air taxi service in the US

امریکا میں ایئر ٹیکسی سروس کے لیے سخت شرائط

28 اکتوبر , 2026
ICC rankings released Babar Azam slips, Shubman Gill retains the top spot.

آئی سی سی رینکنگ جاری، بابر اعظم کی تنزلی، شبمن گل کی پہلی پوزیشن برقرار

28 اکتوبر , 2026

ہمارے بارے میں

"پاک ترک نیوز" ایک غیر جانب دار اردو نیوز ویب سائٹ ہے جو پاکستان، ترکی اور دنیا بھر کی اہم خبروں، تجزیات، اور فیچر مضامین کو اردو قارئین تک بروقت اور مستند انداز میں پہنچانے کا عزم رکھتی ہے۔ ہم پاک ترک تعلقات، عالمی سیاست، معیشت، ثقافت، اور سوشل ایشوز کو ایک نیا زاویہ دیتے ہیں، تاکہ قارئین باخبر، با شعور اور با اثر رہیں۔

  • صفحہ اول
  • پاکستان
  • تازہ ترین
  • ترکک
  • دنیا
  • ہمارے بارے میں
  • شرائط و ضوابط
  • پرائیویسی پالیسی
  • اعلانِ لاتعلقی
  • رابطہ کریں

ہمارا سوشل میڈیا فالو کریں

Facebook Twitter Instagram Youtube

Copyright 2026 © تمام اشاعتی حقوق پاک ترک نیوز کے محفوظ ہیں۔ بغیر اجازت نقل و اشاعت کی اجازت نہیں۔

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • ترکیہ
  • دنیا
  • کھیل
  • معیشت
  • کالم/بلاگز
  • ٹیکنالوجی
  • تعلیم و صحت

Copyright 2026 © تمام اشاعتی حقوق پاک ترک نیوز کے محفوظ ہیں۔ بغیر اجازت نقل و اشاعت کی اجازت نہیں۔