لاہور( پاک ترک نیوز) جنگ اب صرف زمین تک محدود نہیں رہی،۔اب موت آسمان سے خاموشی سے اترتی ہے،ایک بٹن دبائیں اور پورا شہر نشانے پرڈرون ٹیکنالوجی نے جنگ کو خوفناک ترین موڑ پر لا کھڑا کیا ہے ۔
اندھیری رات… خاموش فضا…اور اچانک ایک حملہ… نہ کوئی آواز، نہ کوئی وارننگ!یہ ہے ڈرون وار—جہاں دشمن کو حملے کا احساس بھی نہیں ہوتا!
جنگ کا انداز بدل چکا ہے.اب نہ صرف ٹینک اور میزائل بلکہ آسمان سے خاموشی سے حملہ کرنے والے ڈرونز میدان میں ہیں،یہ جدید ہتھیار کس حد تک خطرناک ہے؟ کیسے بنتا ہے؟
اور کیسے نشانہ بناتا ہے؟
آج کی جنگ میں ڈرونز یعنی بغیر پائلٹ کے اڑنے والی مشینیں، گیم چینجر بن چکی ہیں۔امریکا، چین، ترکی اور ایران جیسے ممالک اس ٹیکنالوجی میں سبقت لے جانے کی دوڑ میں شامل ہیں۔
ڈرون کی سب سے بڑی طاقت یہ ہے کہ یہ دور بیٹھ کر کنٹرول کیا جا سکتا ہے، کم لاگت، کم خطرہ اور انتہائی درست نشانہ لگاتا ہے ،اسی لیے اسے خاموش قاتل بھی کہا جاتا ہے۔
ڈرون کی تیاری ایک پیچیدہ عمل ہےم،اس میں ہلکا وزن رکھنے والا فریم، طاقتور موٹر، کیمرے، سینسرز اور جی پی ایس سسٹم شامل ہوتے ہیں،جدید ڈرونز میں مصنوعی ذہانت بھی شامل کی جا رہی ہے، جو خودکار فیصلہ کرنے کی صلاحیت دیتی ہے۔
ڈرون اپنے ہدف کو پہلے کیمروں اور سینسرز کے ذریعے تلاش کرتا ہے پھر کنٹرول روم سے آپریٹر ہدف کی تصدیق کرتا ہے،اور ایک بٹن دبانے پر میزائل یا بم براہ راست نشانے پر گرتا ہے۔کچھ جدید ڈرونز خودکار طریقے سے بھی ہدف کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔
ڈرون وارفیئر نے جنگ کو مکمل طور پر بدل دیا ہے، اب کم طاقتور ملک بھی بڑی طاقت کو چیلنج کر سکتا ہے۔ لیکن خطرات بھی کم نہیں، غلط ہدف، شہری ہلاکتیں اور سائبر ہیکنگ جیسے مسائل اس ٹیکنالوجی کو متنازع بناتے ہیں۔سوال یہ ہے… کیا یہ ٹیکنالوجی دنیا کو محفوظ بنائے گی یا مزید خطرناک؟












