
از: سہیل شہریار
طویل فاصلے تک بحری نگرانی و حفاظت اور آبدوزوں کے خلاف مؤثر کاروائی کے فرایض سر انجام دینے کے لئے جدید ترین جیٹ ایل آر ایم پیز کی شمولیت کے ذریعے پاک بحریہ کے بحری ہوابازی کےشعبے کو مضبوط کیا جا رہا ہے۔ جو مستقبل میں پاک بحریہ کی شمالی بحر ہند میں میری ٹائم نگرانی کے لئے ایک بڑی توسیع کا اشارہ ہے۔
یہ اعلان تزویراتی طور پر اہم ہے کیونکہ بحری نگرانی کے یہ جدیدپٹرولنگ طیارے فضا سے دشمن کی آبدوزوں کا پتہ لگا کر کاروائی کرنے، اینٹی شپ سٹرائیک اور دشمن قوتوں کے قومی ساحلوں تک پہنچنے سے پہلے دفاع کی صلاحیت سے لیس ہیں۔
پاک بحریہ کے سربراہ ایڈمرل نوید اشرف نے اپنے تازہ اانٹرویو میں جیٹ لانگ رینج میری ٹائم پیٹرول ایئر کرافٹ کی شمولیت کو پاک بحریہ کی جدید کاری کے جاری عمل میں مستقبل کے ملٹی ڈومین آپریشنز کامرکزی جزو قرار دیتے ہوئےاسے فریگیٹس، کارویٹس، آبدوزوں، سایبر صلاحیتوں، مصنوعی ذہانت اور خلائی انضمام سے منسلک کیا ہے۔
"جیٹ ایل آر ایم پیز” سے مراد جیٹ سے چلنے والے طویل فاصلے تک مار کرنے والےبحری نگرانی وحفاظت کرنے والے جدید طیارےہیں ۔جو اپنی رفتار ،پرواز کے دورانیے، جدید ترین آلات اور تارپیڈوز سمیت دیگر اسلحے کی بدولت اپنے فرائض کی انجام دہی میں انتہائی مؤثر ہیں۔ اور پاک بحریہ میںان کی شمولیت سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان مسلسل جاسوسی، اینٹی سب میرین وارفیئر، اورفضا میں انتہائی بلندی سے ہدف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت کو ترجیح دے رہا ہے۔
پاک بحریہ کی جانب سےیہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب شمالی بحر ہند تیزی سے ایک متنازعہ علاقہ کے طور پر ابھر رہا ہے جہاں پاکستان، بھارت، چین، خلیجی ریاستیں اور غیر علاقائی بحری افواج اثر و رسوخ کے لیے مقابلہ کر رہی ہیں۔ چنانچہ پاکستان نیوی کے بحری سلطان پروگرام کا مقصد بحری نگرانی و حفاظت کے عمل کو ملک کی سمندری سرحدوں اور بحیرہ عرب سے آگے بحر ہند تک پھیلانا ہے۔بحری سلطان پروگرام کا ایک مقصد یہ بھی ہے کہ اعلیٰ درجے کے طویل فاصلے تک نگرانی وحفاظت کے جدید بحری نظام کے ذریعے بھارت کی عددی برتری کو نیچا دکھایا جا سکے۔
تزویراتی طور پر، ایڈمرل اشرف کا بیان بتاتا ہے کہ پاکستان نیوی تیزی سے میری ٹائم ایوی ایشن کو محض فضائی جاسوسی کی صلاحیت کے بجائے ایک آپریشنل کمانڈ اینڈ کنٹرول نیٹ ورک کے طور پر دیکھتی ہے۔
ایڈمرل اشرف نے جن طیاروں کی نشاندہی کی ہے وہ ایمبریئر لائن ایج ای۔1000 بزنس جیٹ ہیں ۔یہ جہاز جڑواں انجنوں والا جیٹ ہے جو ایمبریئر 190 جہازوں کےخاندان سے ماخوذ ہے اور بحریہ کے لانگ رینج میری ٹائم پیٹرول ایئر کرافٹ کے طور پر ا ستعمال کے لیے بڑے پیمانے پر تبدیل کیے گئے ہیں۔ ان جہازوں کو بحری سلطان کا نام دیا گیا ہے۔جو پاک بحریہ کے فضائی شعبے میں پروں والے روایتی ٹربو گشتی طیارے پی۔3سی اورین کے مقابلے میں کافی زیادہ رفتار، اونچائی اور برداشت فراہم کریں گے۔
پاکستان نے اس پلیٹ فارم کا انتخاب اس لیے کیا کیونکہ بزنس جیٹ ایئر فریم طویل عرصے تک بغیر ایندھن کے پہنچنے، کم آپریٹنگ لاگت اور بحیرہ عرب اور شمالی بحر ہند میں تیز تر ردعمل کے وقت کا حامل ہے۔سی سلطان کو اٹلی کی کمپنی لیونارڈو کے ذریعے مربوط اور تبدیل کیاگیاہے۔ جو ہوائی جہاز کو ایسے مشن سسٹم سے لیس کر تی ہے جو خاص طور پر اینٹی سب میرین اور میری ٹائم اسٹرائیک آپریشنز کے لیے تیار کیے گئے ہوں۔
پاکستان نے 2021میں ابتدائی طور پر تین سی سلطان طیاروں کا آرڈر دیا تھا جن میں بعد ازاں نئے معاہدوں کے ذریعے اضافہ کر دیا گیا۔چموجودہ طویل المدتی منصوبہ بندی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ پاکستان نیوی بالآخر اپنے پرانے لاک ہیڈ پی۔3سی اورین بیڑے کی جگہ دس سی سلطان طیاروں کو میدان میں اتارنے کا ارادہ رکھتی ہے۔










