ماسکو(پاک ترک نیوز )روس کے واحد جوہری آبدوز ساز شپ یارڈ سیوماش نے جدید یاسین۔ایم طرز کی چھٹی جوہری حملہ آور آبدوز اولیانوسک کو باضابطہ طور پر سمندر میں اتار دیا ہے، جو روسی بحریہ کے شمالی بیڑے میں شامل کی جائے گی۔
روسی وزارتِ دفاع کے مطابق آبدوز کی تعمیر کا آغاز 27 جولائی 2017 کو کیا گیا تھا، جبکہ اسے 28 جولائی کو شپ یارڈ سے پانی میں اتارا گیا۔ اب آبدوز کی تکمیل، مختلف آزمائشی مراحل اور سمندری تجربات کے بعد اسے بحریہ کے حوالے کیا جائے گا۔
روسی حکام کا کہنا ہے کہ یاسین۔ایم دنیا کی سب سے بڑی حملہ آور جوہری آبدوزوں میں شمار ہوتی ہے۔ اس میں جدید زیرِ آب نگرانی کا نظام نصب ہے، جو دشمن کے جہازوں اور آبدوزوں کو بہت زیادہ فاصلے سے شناخت کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
آبدوز کو اس انداز میں تیار کیا گیا ہے کہ اس کی آواز انتہائی کم ہو، جس سے دشمن کے لیے اس کا سراغ لگانا مشکل ہو جاتا ہے۔ اس مقصد کے لیے اس کے اندر نصب مشینری کو خصوصی جھٹکا جذب کرنے والے نظام پر رکھا گیا ہے، جبکہ پانی میں حرکت کے دوران پیدا ہونے والے شور کو بھی کم سے کم کرنے کے لیے جدید انجینئرنگ استعمال کی گئی ہے۔
روسی بحریہ کے سربراہ ایڈمرل الیگزینڈر مویسیف نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ نئی آبدوز کی تیاری روسی بحریہ کی جنگی صلاحیت میں مسلسل اضافے کا ثبوت ہے۔ ان کے مطابق حال ہی میں اسی منصوبے کے تحت ایک اور جوہری آبدوز مرمانسک کی تعمیر بھی شروع کی گئی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ آئندہ دس برسوں میں روس اپنی تمام حملہ آور جوہری آبدوزوں کے بیڑے کو مکمل طور پر یاسین اور یاسین۔ایم طرز کی آبدوزوں پر مشتمل کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔
روسی حکام کے مطابق یہ آبدوزیں جدید ترین بحری میزائلوں سے لیس ہیں، جن میں کالیبر، اونیکس اور زرکون شامل ہیں۔ ان کے علاوہ یہ جدید زیرِ آب ہتھیار بھی استعمال کر سکتی ہیں اور طویل عرصے تک خفیہ انداز میں دنیا کے تقریباً کسی بھی سمندری علاقے میں کارروائی کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔












