
از: سہیل شہریار
اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کے وزرائے خارجہ نے اسرائیل کی اقوام متحدہ کی رکنیت معطل کرنےکا مطالبہ کرتے ہوئےکہا ہے کہ قابض اسرائیلی افواج کی طرف سے غزہ میں فلسطینیوں کے خلاف جاری نسل کشی، خوراک کا بطور ہتھیار استعمال اور فلسطینی علاقوں پر قبضے کے جرائم اقوام متحدہ کی رکنیت کی شرائط کی صریح خلاف ورزی ہیں۔
او آئی سی کے رکن ملکوں کے وزرائے خارجہ کی کونسل کے جدہ میں تنظیم کے صدر دفتر میں منعقد ہونے والے 21ویں غیر معمولی اجلاس میں او آئی سی کے ارکان کی جانب سے اقوام متحدہ میں اسرائیل کی رکنیت کو معطل کرانے کے لیے مشترکہ اقدامات کرنے پر بھی زور دیا گیا۔اسلامی تعاون تنظیم کے وزرائے خارجہ نے اسرائیل کی جانب سے غزہ پر قبضے اور مکمل فوجی کنٹرول کے اعلان اور کسی بھی بہانے سے فلسطینی عوام کو بے گھر کرنے کی کسی بھی سازش کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے سختی سے مسترد کردیا۔
https://www.youtube.com/watch?v=_SITD4khjQ4
او آئی سی کے وزرائے خارجہ نے اسرائیلی وزیر اعظم کے ان غیر ذمہ دارانہ اور متکبرانہ بیانات کو بھی سخت الفاظ میں مسترد کردیا جن میں وہ "گریٹر اسرائیل” کے تصور کا ذکر کرتے ہیں۔ ان بیانات کو انتہا پسندی، اشتعال انگیزی اور دوسرے ملکوں کی خودمختاری پر حملہ قرار دیا گیا جو بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی خلاف ورزی اور علاقائی و بین الاقوامی امن و سلامتی کے لیے ایک سنگین خطرہ ہے۔
او آئی سی وزرائے خارجہ کونسل کے 21 ویں غیر معمولی اجلاس کےاعلامیہ میں سلامتی کونسل سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ آئندہ ماہ ستمبر میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاسوں میں فلسطینی عوام کے خلاف اسرائیلی جارحیت کے حوالے سے ایک غیر معمولی اجلاس منعقد کرے۔ مسلم وزرائے خارجہ نے پوری مسلم امہ کے لیے فلسطینی مسئلے کی مرکزیت اور فلسطینی عوام کے ناقابل تقسیم حقوق کی تائید کی۔ انہوں نے کہاکہ فلسطینی عوام کے حقوق میں حق خودارادیت، پناہ گزینوں کی واپسی اور 4 جون 1967 کی سرحدوں پر ایسی خود مختار اور آزاد فلسطینی ریاست کا قیام شامل ہے جس کا دارالحکومت مشرقی القدس ہو۔ اجلاس کے شرکا نے غزہ میں شہری بنیادی ڈھانچے کو منظم طریقے سے نشانہ بنانے، خوراک کی سپلائی چین، پانی کی سہولیات اور طبی خدمات کی تباہی کی مذمت کی جس کی وجہ سے قحط اور ایک انسانی ساختہ المیہ جنم لے چکا ہے۔
مزید براںاو آئی سی وزرائے خارجہ کونسل نے اپنے اعلامیہ میں اسرائیل سےتمام فوجی کارروائیوں کو فوری طور پر روکنے،فوری انسانی امدادکی رسائی کے لیے محاصرہ مکمل اور غیر مشروط طور پر اٹھانےاور تمام گزرگاہیں کھولنےکے ساتھ بے گھر افراد کی واپسی کا مطالبہ کیا ہے ۔
او آئی سی وزرائے خارجہ نے فوری جنگ بندی کے لیے مصر، قطر اور امریکہ کی طرف سے کی جانے والی کوششوں کی حمایت کی تاکہ قیدیوں کے تبادلے کا معاہدہ ہو سکے۔ اس معاہدے سے بے گھر افراد کو ان کے گھروں یا جو کچھ ان میں سے بچا ہے وہاں واپس آنے میں سہولت ہو گی۔ اسرائیلی قابض افواج غزہ سے مکمل طور پر پیچھے ہٹ جائیں گی اور قاہرہ میں مجوزہ تعمیر نو کانفرنس کا انعقاد ہو گا تاکہ غزہ کی امداد اور تعمیر نو کے لیے عرب-اسلامی منصوبہ شروع کیا جا سکے۔
اجلاس کے شرکاء نے اپنے بیان میں زور دیا کہ اسرائیل کے جنگی جرائم کا محاسبہ اور جوابدہی ضروری ہے۔ ان جرائم میں ننگی جارحیت، نسل کشی، غزہ کا غیر قانونی محاصرہ، بھوک کو جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا، نوآبادیاتی پالیسیاں، یہودی آباد کاروں کی مسلمانون اور مسیحیوں کے خلاف دہشت گردانہ اور اور انتہا پسندکاروائیاں، مسلم اور مسیحی مقدس مقامات پر بار بار حملے، مشرقی القدس اور مغربی کنارے میں فلسطینی زمین کو ضم کرنے کی کوششیں شامل ہیں۔
اجلاس کے شرکاء نے اسرائیل کی مسلسل ہٹ دھرمی اورثالثوں کی طرف سے جنگ بندی کی کوششوں کو مسترد کرنے کی مذمت کی۔ انہوں نے فلسطینی فریق کی رضامندی کے باوجود ثالثوں کی تازہ ترین تجویز کو اسرائیل کے مسترد کرنے کی شدید مذمت کی جس کے نتیجے میں انسانی بحران مزید سنگین ہو رہا ہے۔۔ انہوں نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ ان پالیسیوں کو روکنے کے لیے اپنی قانونی، سیاسی اور انسانی ذمہ داریوں کو پورا کرے۔
شرکا نے اس بات پر بھی زور دیا کہ عالمی برادری کے لیے ضروری ہے کہ وہ اقوام متحدہ کی طرف سے منظور شدہ انٹیگریٹڈ فوڈ سیکورٹی فیز کلاسی فکیشن (IPC) کے بارے میں ذمہ داری سے کام کرے۔جس میں پہلی مرتبہ غزہ میں باضابطہ قحط کا اعلان کردیا گیا ہے۔












