کراچی ( پاک ترک نیوز) کراچی میں مقتول مصطفیٰ عامر کی والدہ نے مقدمات کی کارروائی میں مبینہ تاخیر کے خلاف سندھ ہائیکورٹ سے رجوع کرلیا۔ عدالت نے ٹرائل کورٹ سے مقدمے کا ریکارڈ طلب کرلیا۔ جسٹس اقبال کلہوڑو نے استفسار کیا کہ مقدمات کیوں نہیں چل رہے؟ مدعیہ کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ ملزم ارمغان کی جانب سے مبینہ طور پر تاخیری حربے استعمال کیے جارہے ہیں۔
مدعیہ کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ملزم ارمغان کی جانب سے مبینہ طور پر مختلف تاخیری حربے استعمال کیے جارہے ہیں۔کبھی ملزم اور اس کے والدین آپس میں لڑ پڑتے ہیں، کبھی وکیل عدالت میں پیش نہیں ہوتا اور کبھی یہ مؤقف اختیار کیا جاتا ہے کہ ٹرائل کورٹ پر اعتماد نہیں۔
عدالت نے ریمارکس دیے کہ اگر مقدمے میں تاخیر ملزم کی جانب سے ہورہی ہے اور وہ جیل میں ہے تو اسے ضمانت نہیں ملے گی۔ ملزم دس پندرہ سال بھی جیل میں پڑا رہ سکتا ہے
سندھ ہائیکورٹ نے ٹرائل کورٹ سے مقدمے کا ریکارڈ طلب کرتے ہوئے کیس کی کارروائی میں تاخیر سے متعلق صورتحال واضح کرنے کی ہدایت کردی۔
یہ بھی پڑھیں: مکہ دفاعی معاہدہ ایران کے لیے خطرہ نہیں اسماعیل بقائی
مصطفیٰ عامر قتل کیس میں مقتول کی والدہ کی جانب سے عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ مقدمے کی کارروائی قانون کے مطابق تیزی سے آگے بڑھائی جائے تاکہ کیس کو منطقی انجام تک پہنچایا جاسکے۔












