نئی دہلی ( پاک ترک نیوز) مودی سرکاراوربھارتی کٹھ پتلی عدالتیں مسلمانوں کی تاریخ اورشناخت مٹانے میں مصروف ،مودی سرکارکی ہندوتوا پالیسیوں کے تحت بھارت مسلمانوں کے منظم استحصال کی ایک ریاست بن چکا ہے ۔
معروف عالمی جریدے الجزیرہ کے مطابق بھارتی کٹھ پتلی عدالت نے مدھیہ پردیش میں موجود تاریخی کمال مولامسجد کو مندرقرار دے دیا،عدالت نے تاریخی مسجد کومندرقراردے کرہندوؤں کو وہاں عبادت کی اجازت دے دی۔
رپورٹ کے مطابق بھارت میں نام نہاد مذہبی ہم آہنگی اورسیکولرازم ختم ہوچکی اب وہاں صرف مودی کا ہندوتوا چلتا ہے، مسجد کےمؤذن رفیق نے کہا کہ برطانوی دور سے پہلے سے ان کا خاندان اس مسجد کی ذمہ داری سنبھال رہا ہے،تاریخی مسجد میں ہندو انتہا پسند ہندوتوا کے جھنڈے لہرا کررقص اور پوجا کررہے ہیں۔
معروف امریکی تاریخ دان آڈری ٹروشکے نے کہا بھارت میں مساجد کو نشانہ بنانے کا موجودہ رجحان ہندو قوم پرستی میں جڑ پکڑے ہوئے اسلاموفوبیا کا حصہ ہے۔
ماہرین کے مطابق ہندو انتہا پسند کٹھ پتلی مودی سرکار کی طرح بھارتی عدالتیں بھی نام نہاد سیکولر انڈیا کو پس پشت ڈال کر ہندوتوا نظام کو پھیلانے میں مصروفِ عمل ہے۔












