ایک طرف سفارتی میز سجی ہے، تو دوسری طرف میزائلوں کی گھن گرج ہو رہی ہے ،امریکا اور اسرائیل کے ایران پر حملے جاری ہیں ،سوال یہ ہے کہ کیا مذاکرات جنگ کو روک پائیں گے؟یا دنیا ایک نئے بڑے تصادم کی طرف بڑھ رہی ہے؟
امریکا اور اسرائیل کی طرف سے ایران میں شہری آبادی پر فضائی حملے کیے گئے ،تہران ،اصفہان ،قم کے علاقوں کو نشانہ بنایا گیا ،چھ افراد شہید ،متعدد زخمی ہو گئے ،کئی عمارتیں تباہ ، متاثرہ جگہوں پر امدادی کارروائیاں جاری،تہران میں پاکستانی سفارتخانے اور سفیر کے گھر کے قریب بھی بمباری کی گئی ، ،اسرائیل نے ایرانی پاسداران انقلاب کے نیوی کمانڈر علی رضا تگسیری کو شہید کرنے کا دعویٰ کیا ہے ، علی رضا آبنائے ہرمز کی بندش کے مرکزی کردار سمجھے جاتے تھے
دوسری طرف امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی توانائی تنصیبات پر حملے مزید 10روز تک روکنے کا اعلان کر دیا ہے ،۔۔ٹروتھ سوشل پر پیغام میں کہا،6اپریل2026 تک ایران کی توانائی تنصیبات پر حملے روک دیئے۔ ،اقدام ایران کی حکومت کی درخواست پر کیا گیا ۔۔ صدر ٹرمپ نے توانائی تنصیبات پر حملے اس سے پہلے 5روز کیلئے روکنے کا اعلان کیا تھا۔
ایرانی فوج کے ترجمان کا کہنا ہے چار مطالبات پورے ہونے تک امریکا کو جانے نہیں دیں گے۔ جنگ میں اب تک 8 سو امریکی فوجی ہلاک اور 5 ہزار کو زخمی کیا ،ایرانی بمباری سے ایک ہزار تین سو اکیس اسرائیلی فوجی مارے گئے ۔ترجمان ایرانی فوج نے مزید کہا جنگ میں 17 امریکی اڈے تباہ کیے گئے ، امریکی فوج کا ہوٹلوں میں چھپنا ذلت آمیز پسپائی ہے، امریکی فوجی حکمت عملی کی ناکامی اس کی ساکھ کو دھچکا ہے۔












