اسلام آباد (پاک ترک نیوز ) چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کی زیر صدار ت پیپلز پارٹی آزاد جموں و کشمیر کی پارلیمانی پارٹی کا اہم اجلاس ہوا، جس میں آزاد کشمیر کی موجودہ سیاسی صورتحال، حکومتی اقدامات اور حالیہ کشیدگی کے تناظر میں مختلف امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
اجلاس میں پیپلز پارٹی آزاد کشمیر کے سیاسی امور کی انچارج فریال تالپور سمیت پارلیمانی پارٹی کے ارکان نے شرکت کی۔ شرکاء نے آزاد کشمیر میں پیدا ہونے والی سیاسی صورتحال، عوامی ردعمل اور آئندہ سیاسی حکمت عملی کے حوالے سے اپنی تجاویز پیش کیں۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے آزاد جموں و کشمیر کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کی بنیاد ہی مسئلہ کشمیر پر رکھی گئی تھی، اس لیے پارٹی ہمیشہ کشمیری عوام کے حقوق، مسائل اور ان کے حل کو اولین ترجیح دیتی آئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام کو درپیش مشکلات کے حل کے لیے تمام سیاسی قوتوں کو ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ سیاسی تنازعات اور اختلافات کا حل محاذ آرائی کے بجائے مذاکرات اور جمہوری عمل کے ذریعے تلاش کیا جانا چاہیے۔
چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ وہ وزیراعظم شہبازشریف سے ملاقات کریں گے تاکہ آزاد کشمیر کی موجودہ صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا جا سکے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ تمام متعلقہ فریقین کے درمیان بات چیت کے ذریعے ایسا حل نکالا جائے گا جو عوامی مفاد اور جمہوری روایات کے مطابق ہو۔
بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ مسائل کا مستقل اور پائیدار حل اسمبلی اور آئینی فورمز کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ سیاسی درجہ حرارت کم کرنے اور کشیدگی کے خاتمے کے لیے مکالمے کا راستہ اختیار کیا جانا چاہیے۔
اجلاس میں آزاد کشمیر حکومت کی جانب سے جوائنٹ ایکشن کمیٹی کو کالعدم قرار دینے کے فیصلے اور اس کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال پر بھی غور کیا گیا۔
واضح رہے کہ دو روز قبل آزاد کشمیر حکومت نے جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کو کالعدم تنظیم قرار دیا تھا، جس کے بعد سیاسی ماحول میں کشیدگی پیدا ہوگئی۔
دوسری جانب کمیٹی نے حکومتی فیصلے کے خلاف 9 جون کو ہڑتال کی کال دے رکھی ہے، جس کے باعث خطے میں سیاسی سرگرمیوں اور عوامی ردعمل میں مزید شدت آنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق بلاول بھٹو زرداری کی جانب سے وزیراعظم سے ملاقات اور مذاکرات پر زور دینا اس بات کا اشارہ ہے کہ پیپلز پارٹی آزاد کشمیر میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کو سیاسی اور پارلیمانی ذرائع سے حل کرنے کی حامی ہے۔
آئندہ چند روز میں حکومت، سیاسی جماعتوں اور دیگر اسٹیک ہولڈرز کے درمیان رابطوں میں تیزی آنے کا امکان ہے، جس سے آزاد کشمیر کی سیاسی صورتحال کی سمت کا تعین ہوگا۔












