واشنگٹن(پاک ترک نیوز ) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واضح کیا ہے کہ ایران کے ساتھ کسی بھی امن یا جامع معاہدے سے قبل نہ تو ایرانی اثاثے غیرمنجمد کیے جائیں گے اور نہ ہی تہران پر عائد اقتصادی پابندیوں میں کوئی نرمی کی جائے گی۔
امریکی میڈیا کو دیے گئے انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے منجمد اثاثوں کی واپسی یا پابندیوں کے خاتمے کو مذاکراتی معاہدے کا حصہ نہیں بنایا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ایران مثبت طرزِ عمل اختیار کرتا ہے اور معاہدے کی شرائط پر عملدرآمد کرتا ہے تو بعد ازاں ان معاملات پر غور کیا جا سکتا ہے۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ اس بات پر بھی زور نہیں دے رہا کہ لبنان کو ایران کے ساتھ ہونے والے کسی ممکنہ معاہدے کا حصہ بنایا جائے۔ ان کے مطابق موجودہ مذاکرات کا بنیادی مقصد ایران کے جوہری پروگرام اور خطے میں اس کے کردار سے متعلق تحفظات کا حل تلاش کرنا ہے۔
خبر ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق امریکی انتظامیہ ایران کے منجمد اثاثوں کے ممکنہ استعمال کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لے رہی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ان اثاثوں کا ایک حصہ خلیجی ممالک کو ایران کی جانب سے مبینہ حملوں اور علاقائی کشیدگی کے نتیجے میں ہونے والے مالی نقصانات کے ازالے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق امریکی وزیر خزانہ نے متعلقہ حکام کو ہدایت جاری کی ہے کہ وہ خلیجی اتحادی ممالک کو پہنچنے والے نقصانات کا تفصیلی تخمینہ لگائیں اور تعمیرِ نو یا معاوضوں کی ممکنہ لاگت کا جائزہ لیں۔
امریکی میڈیا کے مطابق اگر مستقبل میں اس منصوبے پر عمل کیا گیا تو امریکی محکمہ خزانہ ایرانی منجمد اثاثوں کے استعمال کے لیے دستیاب قانونی اور مالی ذرائع بروئے کار لا سکتا ہے۔ تاہم اس حوالے سے ابھی کوئی حتمی فیصلہ سامنے
نہیں آیا۔
امریکا اور ایران کے درمیان درمیان جاری مذاکرات میں متعدد معاملات زیر بحث ہیں، جن میں جوہری پروگرام، پابندیوں کا خاتمہ، منجمد اثاثوں کی واپسی اور خطے میں سیکیورٹی کی صورتحال شامل ہیں۔
تاہم ٹرمپ انتظامیہ کے تازہ بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ واشنگٹن فی الحال پابندیوں اور اثاثوں کے معاملے پر سخت مؤقف برقرار رکھنا چاہتا ہے اور کسی بھی رعایت کو معاہدے کے بعد کی پیش رفت سے مشروط کر رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق امریکی مؤقف سے مذاکرات مزید پیچیدہ ہو سکتے ہیں کیونکہ ایران طویل عرصے سے اپنے منجمد اثاثوں کی بحالی اور اقتصادی پابندیوں کے خاتمے کو مذاکرات کا اہم حصہ قرار دیتا رہا ہے۔
دوسری جانب امریکہ اور اس کے خلیجی اتحادی خطے میں سیکیورٹی خدشات اور ایران کے علاقائی کردار کو مذاکرات کے مرکزی نکات میں شامل رکھنا چاہتے ہیں۔












