اسلام آباد ( پاک ترک نیوز) پاکستان کی قومی سائبر کرائم تحقیقاتی ایجنسی (این سی سی آئی اے) نے بین الاقوامی اداروں کے تعاون سے عالمی فشنگ نیٹ ورک ٹائیکون ٹو ایف اے کے خلاف بڑی کارروائی کرتے ہوئے دو مشتبہ ملزمان کو گرفتار کر لیا۔
رپورٹ کے مطابق یہ کارروائی سنگاپور پولیس فورس، انٹرپول، این سی سی آئی اے اور سائبر سیکیورٹی کمپنی ٹرینڈ اے آئی کے باہمی تعاون سے کی گئی۔ چھاپے اسلام آباد، فیصل آباد اور سیالکوٹ میں مارے گئے، جبکہ دونوں ملزمان کو پنجاب سے گرفتار کیا گیا۔
کارروائی کے دوران کمپیوٹرز، سرورز، موبائل فونز اور ڈیجیٹل اسٹوریج ڈیوائسز قبضے میں لے لی گئیں، جن کے بارے میں حکام کا کہنا ہے کہ انہیں سائبر جرائم میں استعمال کیا جا رہا تھا۔
تحقیقات کے مطابق مزید چار مشتبہ افراد کارروائی سے قبل پاکستان چھوڑ کر فرار ہو گئے، جن کی گرفتاری کے لیے انٹرپول سے ریڈ نوٹس جاری کرنے کی درخواست کر دی گئی ہے۔
این سی سی آئی اے نے بتایا کہ کارروائی کے دوران اہم ڈیجیٹل شواہد بھی حاصل کیے گئے ہیں، جبکہ اسلام آباد میں ایک جائیداد ضبط کرنے کے لیے قانونی کارروائی شروع کر دی گئی ہے، جس کے بارے میں شبہ ہے کہ اسے سائبر جرائم سے حاصل ہونے والی رقم سے خریدا گیا تھا۔
رپورٹ کے مطابق ٹائیکون ٹو ایف اے نامی پلیٹ فارم 2023 میں سامنے آیا تھا اور اسے دنیا کے جدید ترین فشنگ بطور سروس پلیٹ فارمز میں شمار کیا جاتا ہے۔ یہ پلیٹ فارم سائبر مجرموں کو ایسی تکنیک فراہم کرتا تھا جس کے ذریعے وہ دو مرحلہ جاتی تصدیق (ٹو فیکٹر آتھنٹیکیشن) کو بھی دھوکا دے کر صارفین کے اکاؤنٹس، پاس ورڈز اور لاگ اِن سیشنز تک رسائی حاصل کر لیتے تھے۔
یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد سیف سٹی توسیعی منصوبہ 85 فیصد مکمل،وزیرداخلہ کا سیف سٹی ہیڈ کوارٹرز کا دورہ
تحقیقاتی اداروں کے مطابق اس پلیٹ فارم کا تعلق دنیا بھر میں 24 ہزار سے زائد فشنگ ویب سائٹس اور مائیکروسافٹ 365 اور گوگل صارفین کو نشانہ بنانے والی متعدد مہمات سے رہا ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ یہ کامیاب کارروائی مصنوعی ذہانت پر مبنی سائبر انٹیلی جنس، بین الاقوامی تعاون اور بروقت معلومات کے تبادلے کی بدولت ممکن ہوئی، جو سرحدوں سے ماورا سائبر جرائم کے خلاف عالمی سطح پر مشترکہ کوششوں کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے۔












