تہران: (پاک ترک نیوز)کیا ایران نے ایٹمی ہتھیار بنا لیے ہیں؟ کیا اُس نے ایٹمی ہتھیاروں کے تجربے کیے ہیں؟ مغربی اور امریکی میڈیا کافی عرصے یہ خبریں رپورٹ کر رہا ہے۔ یہ سچ ہے یا جھوٹ؟ آخر اس میں حقیقت کیا ہے؟ آئیے آپ کو بتاتے ہیں۔
غیر ملکی میڈیا میں کچھ عرصہ قبل خبر چھپی تھی کہ 5 اکتوبر 2024ء کو ایران کے شہر سمنان سے 44 کلومیٹر جنوب مغرب میں 4.6 شدت کا زلزلہ آیا، جس کی گہرائی صرف 10 کلومیٹر تھی۔ یہ جھٹکے تہران تک محسوس کیے گئے۔
کچھ ہی دیر بعد اسرائیل میں بھی ہلکی لرزش رپورٹ ہوئی، اور سوشل میڈیا پر ایک طوفان کھڑا ہو گیا: کیا یہ واقعی زلزلہ تھا؟ یا ایران کا خفیہ نیوکلیئر ٹیسٹ؟سمنان کا علاقہ ایران کی اہم جوہری تنصیبات کے قریب واقع ہے، جس نے شکوک و شبہات کو مزید ہوا دے دی۔
ایکس پر صارفین نے دعویٰ کیا کہ ایران نے زمین کے نیچے نیوکلیئر بم آزمایا تاکہ تابکاری کم سے کم رہے، مگر اس کا اثر زلزلے کی صورت میں ریکارڈ ہو گیا۔ یہ خبریں ایک بار پھر سوشل میڈیا پر سامنے آنا شروع ہو چکی ہیں۔
ایسے وقت میں جب ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی انتہا پر ہے۔ کیونکہ گذشتہ دنوں ایران میں ایک بار پھر زلزلے کے شدید جھٹکے محسوس کیے گئے ہیں۔
تاہم ماہرین کے مطابق زیرِ زمین نیوکلیئر دھماکے زلزلے جیسے جھٹکے پیدا کر سکتے ہیں، لیکن 4.6 شدت کا زلزلہ اس بات کا حتمی ثبوت نہیں کہ یہ ایٹمی دھماکا تھا۔
اس کے باوجود حقیقت یہ ہے کہ ایران کا جوہری پروگرام انتہائی خطرناک مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔ امریکی اور یورپی رپورٹس کے مطابق ایران 60 فیصد افزودہ یورینیم تیار کر رہا ہے۔ جو ایٹمی ہتھیار سے صرف ایک قدم دور ہے۔ ماہرین خبردار کر چکے ہیں کہ اگر ایران فیصلہ کرلے تو چند ہفتوں میں ایٹمی بم تیار ہو سکتا ہے۔












