لاس اینجلس : (پاک ترک نیوز)لاس اینجلس کے آسمان پر ایک ایسا طیارہ دیکھا گیا جسے دنیا "قیامت کا جہاز” کہتی ہے۔ امریکی فوج کا E-4B نائٹ واچ، جسے Doomsday Plane کہا جاتا ہے، حال ہی میں لاس اینجلس ایئرپورٹ پر اُترا، اور سوشل میڈیا پر ایک ہی سوال گونج اُٹھا: کیا دنیا ایٹمی جنگ کے دہانے پر ہے؟
یہ کوئی عام جہاز نہیں۔ یہ وہ اُڑتا ہوا کمانڈ سینٹر ہے ، جہاں سے امریکی صدر، وزیرِ دفاع اور فوجی قیادت اُس وقت جنگ چلا سکتی ہے، جب زمین پر سب کچھ تباہ ہو چکا ہو۔
223 ملین ڈالر مالیت کا یہ طیارہ ایک خصوصی طور پر تبدیل شدہ Boeing 747 ہے، جو نیوکلیئر دھماکوں، حرارتی لہروں اور الیکٹرو میگنیٹک حملوں سے محفوظ رہ سکتا ہے۔
یہ جہاز دورانِ پرواز ایندھن بھروا سکتا ہے اور ایک ہفتے تک مسلسل فضا میں رہنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
اگر Air Force One آسمان میں وائٹ ہاؤس ہے، تو E-4B ایک اُڑتا ہوا وار روم ہے۔ جہاں سیٹلائٹ لنکس، خفیہ فون لائنز، ریڈیو اینٹیناز اور عالمی فوجی رابطے موجود ہیں۔
حال ہی میں اس جہاز میں امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگسیتھ سفر کر رہے تھے۔ ماہرین کے مطابق یہ لینڈنگ معمول کی لاجسٹک سرگرمی تھی، لیکن چونکہ یہ جہاز عام طور پر نظر نہیں آتا، اس لیے خوف اور قیاس آرائیاں پھیل گئیں۔
حقیقت یہ ہے کہ امریکی فضائیہ کے پاس ایسے چار جہاز ہیں، اور کم از کم ایک ہر وقت الرٹ پر ہوتا ہے۔ چند منٹوں میں اڑان بھرنے کے لیے تیار۔ یہ جہاز ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ ایٹمی جنگ شاید نہ ہو رہی ہو لیکن دنیا اس کے لیے ہر لمحہ تیار ضرور ہے۔












