ٹوکیو ( پاک ترک نیوز) جاپان میں بار بار آنے والے زلزلے محض اتفاق نہیں بلکہ ایک مضبوط سائنسی وجہ ہے ،اس کی بنیادی وجہ ہے کہ جاپان کا رنگ آف فائر میں واقع ہونا ہے ۔جہاں چار بڑی ٹیکٹونک پلیٹس بحرالکاہل ،فلپائن ،یوریشن اور شمالی امریکا آپس میں ٹکراتی اورایک دوسرے کے نیچے سرکتی ہیں جس کے دباو کی وجہ سے اکثر زلزلے آتے ہیں اور آتش فشاں پھٹے ہیں ،اس مقام کی وجہ سے جاپان دنیا میں سب سے زیادہ زلزلوں کا سامنا کرنے والا ملک ہے۔
جاپان میں ہر سال ہزاروں چھوٹے بڑے زلزلے آتے ہیں ،وہاں پر درجنوں آتش فشاں موجود ہیں ،بعض اوقات بڑے زلزلے سمندری طوفان کا سبب بھی بنتے ہیں ۔
اگرچہ دنیا کے دیگر ممالک بھی زلزلوں کا سامنا کرتے ہیں، مگر جاپان جدید مانیٹرنگ سسٹم اور زیادہ ریکارڈنگ کی وجہ سے دنیا میں سب سے زیادہ زلزلوں کا سامنا کرنے والے ممالک میں سرفہرست ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ جاپان نے اس خطرے کو کم کرنے کے لیے زلزلہ مزاحم عمارتیں ،جدید وارننگ سسٹم ،عوامی تربیت جیسے اقدامات کیے ہیں جس کی وجہ سے بڑے زلزلوں میں بھی نقصان نسبتاً کم ہوتا ہے۔
زمیں کے نیچے موجود ٹیکٹونک پلیٹس کے ٹکرانے یا سرکنے سے زمین میں حرکت پیدا ہوتی ہے، جسے زلزلہ کہتے ہیں۔ جاپان چونکہ فالٹ لائن پر واقع ہے اس لئے وہاںسب سے زیادہ زلزلے آتے ہیں۔ فالٹ لائن، پلیٹوں یا پتھروں کے درمیان ایک ایسا فریکچر ہوتا ہے جس کی وجہ سے ایک خلاء پیدا ہوتا ہے جو حرکت کا باعث بنتاہے۔ اس فالٹ لائن پر واقع ممالک میں زلزلے دیگر ممالک کی نسبت زیادہ آتے ہیں ۔ زلزلوں کی شدت کی پیمائش ریکٹرسکیل پر کی جاتی ہے جو 1935ء میں امریکی سائنسدانوں چارلز ایف رچر اور بینو گٹنبرگ نے تخلیق کیا تھا۔
دنیا میں سب سے زیادہ زلزلے جاپان میں آتے ہیں۔جن کی اوسط سالانہ تقریباً 2ہزار ہےسائنسدانوں نے یہ پیشگوئی بھی کی ہے کہ آئندہ دس سال میں ٹوکیو کو ایک انتہائی خطرناک زلزلے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ جس کی وجہ سے ننکائی ٹرف پھٹنے کا ڈر ہے۔ جاپان میں پیسیفک سمند ر کی طرف ننکائی ٹرف 900 کلومیٹر کا علاقہ ہے، جہاں سیزمک ایکٹیویٹی سب سے زیادہ ہوتی ہے۔
رنگ آف فائر میں شامل دیگر ممالک میں انڈونیشیا، نیوزی لینڈ، پاپویا نیوگینی، فلپائن،امریکہ،چلی،کینیڈا، گوئتے مالا، روس، پیرو، سولومن آئی لینڈ اور میکسیکو شامل ہیں۔ پوری دنیا میں آنے والے زلزلوں میں سے 90 فیصد زلزلے اسی خطے میں آتے ہیں جبکہ پوری دنیا میں پھٹنے والے آتش فشاں پہاڑوں میں سے 75فیصد اس علاقے میں واقع ہیں۔ یہ رنگ گول تو نہیں ہے لیکن 40ہزار کلومیٹر طویل ہے۔ رنگ آف فائر اور چار پلیٹوں کی موجودگی کی وجہ سے جاپان کو دنیا میں سب سے زیادہ زلزلے برداشت کرنا پڑتے ہیں۔












