پیر , 8 جون , 2026
  • لاگ ان کریں
پاک ترک نیوز
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • ترکیہ
  • دنیا
  • کھیل
  • معیشت
  • کالم/بلاگز
  • ٹیکنالوجی
  • تعلیم و صحت
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • ترکیہ
  • دنیا
  • کھیل
  • معیشت
  • کالم/بلاگز
  • ٹیکنالوجی
  • تعلیم و صحت
No Result
View All Result
پاک ترک نیوز
No Result
View All Result
Home تازہ ترین

کیا امریکا دیوالیہ ہونے کے قریب پہنچ رہا ہے؟

14 گھنٹے پہلے
A A
کیا امریکا دیوالیہ ہونے کے قریب پہنچ رہا ہے؟
Share on Facebookwhatsapp

واشنگٹن (پاک ترک نیوز)امریکا کے بڑھتے ہوئے قومی قرضے اور آنے والے برسوں میں اس کے غیرمعمولی سطح تک پہنچنے کی پیش گوئیوں نے معاشی ماہرین اور پالیسی سازوں میں تشویش پیدا کر دی ہے، اگرچہ یہ واضح نہیں کہ قرضے کی کون سی سطح ایک بڑے مالیاتی بحران کو جنم دے سکتی ہے۔

تاہم، پین وارٹن بجٹ ماڈل (PWBM) کی تازہ رپورٹ کے مطابق یہ حد مجموعی قومی پیداوار (GDP) کے 210 فیصد سے زائد قرضے پر پہنچ سکتی ہے۔

رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ اس "بالائی حد” (Outer Bound) سے تجاوز کرنے کے بعد محنت کشوں کی آمدنی پر کوئی بھی قابلِ عمل ٹیکس اتنا ریونیو پیدا نہیں کر سکے گا کہ امریکی قرضوں پر سود کی ادائیگی سرمایہ کاروں کے لیے قابلِ قبول سطح پر برقرار رکھی جا سکے۔

PWBM کے مطابق وفاقی قرضے کی یہ سطح دراصل "سالوینسی لمٹ” یا مالی بقا کی آخری حد ہے، جس کے بعد امریکی حکومت کے لیے یا تو ٹریژری بانڈز کے قرضوں پر ڈیفالٹ کرنا یا سوشل سکیورٹی جیسے ادائیگیوں کے نظام میں ناکامی تقریباً یقینی ہو جائے گی، خاص طور پر افراطِ زر کو مدنظر رکھتے ہوئے۔

اس وقت امریکا کا قرضہ جی ڈی پی کے تقریباً 100 فیصد کے برابر ہے، جبکہ کانگریشنل بجٹ آفس (CBO) کی پیش گوئی کے مطابق یہ شرح 2056 تک بڑھ کر 175 فیصد تک پہنچ سکتی ہے، جس کا مطلب ہے کہ موجودہ رفتار برقرار رہی تو 210 فیصد کی حد تک پہنچنے میں ابھی کئی دہائیاں باقی ہیں۔

تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر صحت کے اخراجات میں تیزی سے اضافہ ہوا اور میڈی کیئر پروگرام پر بوجھ بڑھا تو یہ خطرناک حد کہیں پہلے بھی آ سکتی ہے۔

PWBM کے اندازوں کے مطابق کم معاشی ترقی کی صورت میں امریکا کے پاس تقریباً 25 سال، درمیانی ترقی کی صورت میں 22 سال اور زیادہ ترقی کی صورت میں 19 سال باقی ہیں، جس کے بعد قرضے کی سطح بحران کی حد تک پہنچ سکتی ہے۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ اگر صحت کے اخراجات تاریخی رفتار سے بڑھتے رہے تو اگلے صرف 14 برسوں میں قرضے کی زیادہ سے زیادہ قابلِ برداشت حد تک پہنچنے کا 25 فیصد امکان موجود ہے۔

ماہرین کے مطابق اگر وفاقی مالیات کو بروقت درست نہ کیا گیا تو بحران سے بچنے کے لیے تمام مزدوری آمدنی پر مستقل طور پر تقریباً 15 فیصد اضافی ٹیکس لگانا پڑ سکتا ہے۔ اس صورت میں آمدنی کی وہ حدیں بھی ختم کرنا ہوں گی جن سے اوپر کی آمدنی ٹیکس سے مستثنیٰ ہوتی ہے۔

رپورٹ کے مطابق دیگر عوامل بھی صورت حال کو مزید پیچیدہ بنا سکتے ہیں، جن میں شرح سود میں اضافہ، ٹیکس دہندگان کی تعداد میں کمی اور محنت کی فراہمی میں تبدیلی شامل ہیں۔ بڑھتا ہوا قرضہ معیشت پر منفی اثرات مرتب کرے گا، جن میں اجرتوں میں کمی، جی ڈی پی کی سست رفتار نمو اور صارفین کے اخراجات میں کمی شامل ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ جب حکومتی قرضہ مسلسل بڑھتا ہے تو سرمایہ زیادہ منافع بخش نجی سرمایہ کاری کے بجائے سرکاری قرضوں میں چلا جاتا ہے، جس سے معیشت میں سرمایہ کاری کے مواقع محدود ہو جاتے ہیں۔

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر امریکا مستقل بنیادوں پر بلند درآمدی ٹیرف برقرار رکھتا ہے اور اس کے نتیجے میں بین الاقوامی سرمایہ کاری کا بہاؤ کم ہوتا ہے تو قرضے کے بحران تک پہنچنے کا وقت مزید دو سے چار سال کم ہو سکتا ہے۔

رپورٹ دو اہم مفروضوں پر بھی مبنی ہے۔ پہلا یہ کہ مالیاتی منڈیوں میں اثاثوں کی قیمتیں حقیقی بنیادوں پر طے ہو رہی ہیں اور کوئی بڑا مالیاتی ببل موجود نہیں۔ اگر ایسا نہیں ہوا اور اچانک مارکیٹ کریش آ گیا تو قرضے اور سرمایہ کے تناسب میں مزید اضافہ ہوگا، جس کے نتیجے میں سرمایہ کار زیادہ منافع (Yield) کا مطالبہ کریں گے اور قرضوں پر سود کا بوجھ مزید بڑھ جائے گا۔

دوسرا مفروضہ یہ ہے کہ مالیاتی منڈیاں اس بات پر یقین رکھتی ہیں کہ امریکی کانگریس اور وائٹ ہاؤس بالآخر مالیاتی استحکام بحال کرنے کے لیے ضروری اقدامات کریں گے۔ لیکن اگر سرمایہ کاروں کا یہ اعتماد متزلزل ہو گیا تو بحران کی مدت مزید کم ہو سکتی ہے۔

PWBM کے مطابق جب سرمایہ کار یہ یقین کھو دیتے ہیں کہ حکومت مالیاتی نظم و ضبط بحال کرے گی تو بانڈ مارکیٹیں زیادہ تیزی سے بحران کا شکار ہو جاتی ہیں۔

ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ امریکی قرضہ بحران کے آغاز کی درست حد کا تعین کرنا آسان نہیں، کیونکہ امریکا کو اب بھی کئی منفرد فوائد حاصل ہیں، جن میں عالمی مالیاتی نظام میں امریکی ڈالر کی مرکزی حیثیت، دنیا کی سب سے بڑی بانڈ مارکیٹ اور دنیا کی سب سے بڑی معیشت شامل ہیں۔ یہی عوامل امریکا کو دیگر ممالک کے مقابلے میں زیادہ مالیاتی گنجائش فراہم کرتے ہیں۔

موضوعات : bankruptcyUSA
ShareSend

متعلقہ خبریں

پاکستان ،امریکا میں بہترین شراکت داری ہے ،نیٹلی بیکر
اہم ترین 2

پاکستان ،امریکا میں بہترین شراکت داری ہے ،نیٹلی بیکر

4 جون , 2026
Talks with Iran are going well, says Donald Trump
اہم ترین

ایران کے ساتھ مذاکرات اچھے جا رہے ہیں ،ڈونلڈ ٹرمپ

4 جون , 2026
ایران امریکا کے ساتھ جنگ کیلئے تیار ہے ،خاتم الانبیا سینٹرل ہیڈکوارٹرز
اہم ترین 2

ایران امریکا کے ساتھ جنگ کیلئے تیار ہے ،خاتم الانبیا سینٹرل ہیڈکوارٹرز

2 جون , 2026
امریکا کے ساتھ بات چیت اور پیغامات کا تبادلہ جاری ہے،عباس عراقچی
اہم ترین 2

امریکا کے ساتھ بات چیت اور پیغامات کا تبادلہ جاری ہے،عباس عراقچی

1 جون , 2026
امریکا، برطانیہ اور آسٹریلیا کا بڑا دفاعی منصوبہ، 2027ء تک زیرِ آب ڈرونز تیار کرنے کا اعلان
تازہ ترین

امریکا، برطانیہ اور آسٹریلیا کا بڑا دفاعی منصوبہ، 2027ء تک زیرِ آب ڈرونز تیار کرنے کا اعلان

31 مئی , 2026
پاکستان امریکا کا مخلص دوست ہے، امریکی وزیر جنگ
اہم ترین

پاکستان امریکا کا مخلص دوست ہے، امریکی وزیر جنگ

30 مئی , 2026
اگلی خبر
ترکیہ نے مہنگائی کا مقابلہ کر لیا، پاکستان ابھی بھی مشکلات کا شکار: ایشیائی ترقیاتی بینک

ترکیہ نے مہنگائی کا مقابلہ کر لیا، پاکستان ابھی بھی مشکلات کا شکار: ایشیائی ترقیاتی بینک

یہ بھی پڑھیں

گلگت بلتستان اسمبلی کے انتخابات،ووٹوں کی گنتی جاری

گلگت بلتستان اسمبلی کے انتخابات،ووٹوں کی گنتی جاری

7 جون , 2026
بلاول بھٹو کا آزاد کشمیر کی صورتحال پر اظہار تشویش

بلاول بھٹو کا آزاد کشمیر کی صورتحال پر اظہار تشویش

7 جون , 2026
گلگت بلتستان الیکشن ،پی ٹی آئی کو برتری حاصل ہے ،شفیع جان کادعویٰ

گلگت بلتستان الیکشن ،پی ٹی آئی کو برتری حاصل ہے ،شفیع جان کادعویٰ

7 جون , 2026
محسن نقوی کی ایرانی وزیر خارجہ سے ملاقات ،وزیراعظم اور فیلڈ مارشل کے خط پہنچائے

محسن نقوی کی ایرانی وزیر خارجہ سے ملاقات ،وزیراعظم اور فیلڈ مارشل کے خط پہنچائے

7 جون , 2026
ایران کے ساتھ معاہدے تک پابندیاں برقرار رہیں گی، ٹرمپ

ایران کے ساتھ معاہدے تک پابندیاں برقرار رہیں گی، ٹرمپ

7 جون , 2026

ہمارے بارے میں

"پاک ترک نیوز" ایک غیر جانب دار اردو نیوز ویب سائٹ ہے جو پاکستان، ترکی اور دنیا بھر کی اہم خبروں، تجزیات، اور فیچر مضامین کو اردو قارئین تک بروقت اور مستند انداز میں پہنچانے کا عزم رکھتی ہے۔ ہم پاک ترک تعلقات، عالمی سیاست، معیشت، ثقافت، اور سوشل ایشوز کو ایک نیا زاویہ دیتے ہیں، تاکہ قارئین باخبر، با شعور اور با اثر رہیں۔

  • صفحہ اول
  • پاکستان
  • تازہ ترین
  • ترکک
  • دنیا
  • ہمارے بارے میں
  • شرائط و ضوابط
  • پرائیویسی پالیسی
  • اعلانِ لاتعلقی
  • رابطہ کریں

ہمارا سوشل میڈیا فالو کریں

Facebook Twitter Instagram Youtube

Copyright 2025 © تمام اشاعتی حقوق پاک ترک نیوز کے محفوظ ہیں۔ بغیر اجازت نقل و اشاعت کی اجازت نہیں۔

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • ترکیہ
  • دنیا
  • کھیل
  • معیشت
  • کالم/بلاگز
  • ٹیکنالوجی
  • تعلیم و صحت

Copyright 2025 © تمام اشاعتی حقوق پاک ترک نیوز کے محفوظ ہیں۔ بغیر اجازت نقل و اشاعت کی اجازت نہیں۔