واشنگٹن (پاک ترک نیوز)امریکا کے بڑھتے ہوئے قومی قرضے اور آنے والے برسوں میں اس کے غیرمعمولی سطح تک پہنچنے کی پیش گوئیوں نے معاشی ماہرین اور پالیسی سازوں میں تشویش پیدا کر دی ہے، اگرچہ یہ واضح نہیں کہ قرضے کی کون سی سطح ایک بڑے مالیاتی بحران کو جنم دے سکتی ہے۔
تاہم، پین وارٹن بجٹ ماڈل (PWBM) کی تازہ رپورٹ کے مطابق یہ حد مجموعی قومی پیداوار (GDP) کے 210 فیصد سے زائد قرضے پر پہنچ سکتی ہے۔
رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ اس "بالائی حد” (Outer Bound) سے تجاوز کرنے کے بعد محنت کشوں کی آمدنی پر کوئی بھی قابلِ عمل ٹیکس اتنا ریونیو پیدا نہیں کر سکے گا کہ امریکی قرضوں پر سود کی ادائیگی سرمایہ کاروں کے لیے قابلِ قبول سطح پر برقرار رکھی جا سکے۔
PWBM کے مطابق وفاقی قرضے کی یہ سطح دراصل "سالوینسی لمٹ” یا مالی بقا کی آخری حد ہے، جس کے بعد امریکی حکومت کے لیے یا تو ٹریژری بانڈز کے قرضوں پر ڈیفالٹ کرنا یا سوشل سکیورٹی جیسے ادائیگیوں کے نظام میں ناکامی تقریباً یقینی ہو جائے گی، خاص طور پر افراطِ زر کو مدنظر رکھتے ہوئے۔
اس وقت امریکا کا قرضہ جی ڈی پی کے تقریباً 100 فیصد کے برابر ہے، جبکہ کانگریشنل بجٹ آفس (CBO) کی پیش گوئی کے مطابق یہ شرح 2056 تک بڑھ کر 175 فیصد تک پہنچ سکتی ہے، جس کا مطلب ہے کہ موجودہ رفتار برقرار رہی تو 210 فیصد کی حد تک پہنچنے میں ابھی کئی دہائیاں باقی ہیں۔
تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر صحت کے اخراجات میں تیزی سے اضافہ ہوا اور میڈی کیئر پروگرام پر بوجھ بڑھا تو یہ خطرناک حد کہیں پہلے بھی آ سکتی ہے۔
PWBM کے اندازوں کے مطابق کم معاشی ترقی کی صورت میں امریکا کے پاس تقریباً 25 سال، درمیانی ترقی کی صورت میں 22 سال اور زیادہ ترقی کی صورت میں 19 سال باقی ہیں، جس کے بعد قرضے کی سطح بحران کی حد تک پہنچ سکتی ہے۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ اگر صحت کے اخراجات تاریخی رفتار سے بڑھتے رہے تو اگلے صرف 14 برسوں میں قرضے کی زیادہ سے زیادہ قابلِ برداشت حد تک پہنچنے کا 25 فیصد امکان موجود ہے۔
ماہرین کے مطابق اگر وفاقی مالیات کو بروقت درست نہ کیا گیا تو بحران سے بچنے کے لیے تمام مزدوری آمدنی پر مستقل طور پر تقریباً 15 فیصد اضافی ٹیکس لگانا پڑ سکتا ہے۔ اس صورت میں آمدنی کی وہ حدیں بھی ختم کرنا ہوں گی جن سے اوپر کی آمدنی ٹیکس سے مستثنیٰ ہوتی ہے۔
رپورٹ کے مطابق دیگر عوامل بھی صورت حال کو مزید پیچیدہ بنا سکتے ہیں، جن میں شرح سود میں اضافہ، ٹیکس دہندگان کی تعداد میں کمی اور محنت کی فراہمی میں تبدیلی شامل ہیں۔ بڑھتا ہوا قرضہ معیشت پر منفی اثرات مرتب کرے گا، جن میں اجرتوں میں کمی، جی ڈی پی کی سست رفتار نمو اور صارفین کے اخراجات میں کمی شامل ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ جب حکومتی قرضہ مسلسل بڑھتا ہے تو سرمایہ زیادہ منافع بخش نجی سرمایہ کاری کے بجائے سرکاری قرضوں میں چلا جاتا ہے، جس سے معیشت میں سرمایہ کاری کے مواقع محدود ہو جاتے ہیں۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر امریکا مستقل بنیادوں پر بلند درآمدی ٹیرف برقرار رکھتا ہے اور اس کے نتیجے میں بین الاقوامی سرمایہ کاری کا بہاؤ کم ہوتا ہے تو قرضے کے بحران تک پہنچنے کا وقت مزید دو سے چار سال کم ہو سکتا ہے۔
رپورٹ دو اہم مفروضوں پر بھی مبنی ہے۔ پہلا یہ کہ مالیاتی منڈیوں میں اثاثوں کی قیمتیں حقیقی بنیادوں پر طے ہو رہی ہیں اور کوئی بڑا مالیاتی ببل موجود نہیں۔ اگر ایسا نہیں ہوا اور اچانک مارکیٹ کریش آ گیا تو قرضے اور سرمایہ کے تناسب میں مزید اضافہ ہوگا، جس کے نتیجے میں سرمایہ کار زیادہ منافع (Yield) کا مطالبہ کریں گے اور قرضوں پر سود کا بوجھ مزید بڑھ جائے گا۔
دوسرا مفروضہ یہ ہے کہ مالیاتی منڈیاں اس بات پر یقین رکھتی ہیں کہ امریکی کانگریس اور وائٹ ہاؤس بالآخر مالیاتی استحکام بحال کرنے کے لیے ضروری اقدامات کریں گے۔ لیکن اگر سرمایہ کاروں کا یہ اعتماد متزلزل ہو گیا تو بحران کی مدت مزید کم ہو سکتی ہے۔
PWBM کے مطابق جب سرمایہ کار یہ یقین کھو دیتے ہیں کہ حکومت مالیاتی نظم و ضبط بحال کرے گی تو بانڈ مارکیٹیں زیادہ تیزی سے بحران کا شکار ہو جاتی ہیں۔
ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ امریکی قرضہ بحران کے آغاز کی درست حد کا تعین کرنا آسان نہیں، کیونکہ امریکا کو اب بھی کئی منفرد فوائد حاصل ہیں، جن میں عالمی مالیاتی نظام میں امریکی ڈالر کی مرکزی حیثیت، دنیا کی سب سے بڑی بانڈ مارکیٹ اور دنیا کی سب سے بڑی معیشت شامل ہیں۔ یہی عوامل امریکا کو دیگر ممالک کے مقابلے میں زیادہ مالیاتی گنجائش فراہم کرتے ہیں۔












