منگل , 22 ستمبر , 2026
  • لاگ ان کریں
پاک ترک نیوز
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • ترکیہ
  • دنیا
  • کھیل
  • معیشت
  • کالم/بلاگز
  • ٹیکنالوجی
  • تعلیم و صحت
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • ترکیہ
  • دنیا
  • کھیل
  • معیشت
  • کالم/بلاگز
  • ٹیکنالوجی
  • تعلیم و صحت
No Result
View All Result
پاک ترک نیوز
No Result
View All Result
Home پاکستان

ترکیہ نے مہنگائی کا مقابلہ کر لیا، پاکستان ابھی بھی مشکلات کا شکار: ایشیائی ترقیاتی بینک

4 مہینے پہلے
A A
ترکیہ نے مہنگائی کا مقابلہ کر لیا، پاکستان ابھی بھی مشکلات کا شکار: ایشیائی ترقیاتی بینک
Share on Facebookwhatsapp

اسلام آباد (پاک ترک نیوز )ایشیائی ترقیاتی بینک کی پالیسی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کے پاس وہ صنعتی صلاحیت، برآمدی تنوع اور پیداواری استعداد موجود نہیں جو اسے ترکیہ کی طرح طویل عرصے تک بلند مہنگائی کے اثرات برداشت کرنے کے قابل بنا سکے۔
رپورٹ کے مطابق صرف مہنگائی کی شرح کو بنیاد بنا کر مختلف معیشتوں کا موازنہ کرنا گمراہ کن ثابت ہو سکتا ہے۔ کسی بھی ملک کی معاشی مضبوطی کا اصل دارومدار اس کی صنعتی بنیاد، برآمدی مسابقت، پیداواری صلاحیت، لاجسٹکس انفراسٹرکچر اور مالیاتی استعداد پر ہوتا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کی صنعتی بنیاد نسبتاً کمزور ہے، جس کی وجہ سے وہ مہنگائی کے دباؤ کا سامنا ترکیہ کے مقابلے میں کہیں زیادہ شدت سے کرتا ہے۔

ایشیائی ترقیاتی بینک کی رپورٹ "Beyond Inflation: Industrial Capability and External Resilience in Pakistan and Türkiye” میں دونوں ممالک کی معیشتوں کا تقابلی جائزہ پیش کیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان کے معاشی مسائل صرف مالیاتی یا عارضی عوامل کا نتیجہ نہیں بلکہ بنیادی طور پر ساختی کمزوریوں سے جڑے ہوئے ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ترکیہ کی معیشت غیرمعمولی مہنگائی کے باوجود ترقی کرتی رہی کیونکہ اس کے پاس ایک مضبوط اور متنوع صنعتی ڈھانچہ موجود ہے، جبکہ پاکستان محدود برآمدی ڈھانچے اور کمزور صنعتی صلاحیت کی وجہ سے اسی نوعیت کی مہنگائی میں شدید معاشی دباؤ کا شکار ہو جاتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق ترکیہ کا مینوفیکچرنگ سیکٹر آٹوموبائل، مشینری اور جدید صنعتی مصنوعات پر مشتمل ہے، جبکہ پاکستان اب بھی بڑی حد تک ٹیکسٹائل، چمڑے کی مصنوعات اور فوڈ پروسیسنگ جیسے روایتی شعبوں پر انحصار کرتا ہے۔

یہ تین شعبے پاکستان کی مجموعی برآمدات کا 73 فیصد سے زیادہ حصہ رکھتے ہیں، جو برآمدی تنوع کی کمی کو ظاہر کرتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق پاکستانی کرنسی کی بار بار قدر میں کمی کے باوجود عالمی برآمدات میں پاکستان کا حصہ تقریباً 0.2 فیصد پر جمود کا شکار ہے۔

ایشیائی ترقیاتی بینک کا کہنا ہے کہ شرح مبادلہ میں کمی دونوں ممالک پر مختلف اثرات مرتب کرتی ہے۔ ترکیہ میں کمزور کرنسی برآمدات اور زرمبادلہ کی آمدن بڑھانے میں مدد دیتی ہے کیونکہ وہاں کی صنعتیں فوری طور پر پیداوار بڑھا کر عالمی منڈی میں مقابلہ کر سکتی ہیں۔

اس کے برعکس پاکستان میں کرنسی کی قدر میں کمی سے درآمدی ایندھن، مشینری، خام مال اور دیگر ضروری اشیا مہنگی ہو جاتی ہیں، جس سے مہنگائی میں اضافہ ہوتا ہے لیکن برآمدات میں اسی تناسب سے اضافہ نہیں ہو پاتا۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کا برآمدی شعبہ اتنا وسیع نہیں کہ بڑھتی ہوئی درآمدی لاگت کا ازالہ زیادہ برآمدات کے ذریعے کر سکے۔

مالیاتی استعداد کے حوالے سے رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ترکیہ کا ٹیکس ٹو جی ڈی پی تناسب 17 سے 18 فیصد کے درمیان ہے، جو پاکستان کے 9 سے 10 فیصد کے مقابلے میں تقریباً دوگنا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ترکیہ کو صنعتوں کی معاونت، معاشی جھٹکوں کا مقابلہ کرنے اور مؤثر معاشی پالیسیاں نافذ کرنے کے لیے زیادہ گنجائش حاصل ہے۔

براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری (FDI) کے میدان میں بھی دونوں ممالک کے درمیان واضح فرق موجود ہے۔ ترکیہ مسلسل زیادہ اور مستحکم غیر ملکی سرمایہ کاری حاصل کرتا رہا ہے، جس کی ایک بڑی وجہ حکمرانی، لیبر مارکیٹ اور مالیاتی ضوابط میں اصلاحات ہیں۔

ان سرمایہ کاریوں نے ترک کمپنیوں کو عالمی ویلیو چینز کا حصہ بننے اور جدید ٹیکنالوجی اپنانے میں مدد دی ہے۔ دوسری جانب پاکستان میں براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کا حجم نسبتاً کم ہے، جس کے باعث جدید ٹیکنالوجی، انتظامی مہارت اور نئی برآمدی منڈیوں تک رسائی محدود رہتی ہے۔

رپورٹ میں یہ بھی نشاندہی کی گئی ہے کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی ترسیلاتِ زر نے گزشتہ ایک دہائی کے دوران پاکستان کو سنگین بیرونی مالیاتی بحرانوں سے بچانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ ترسیلات زر پاکستان کی جی ڈی پی کے 6 سے 9 فیصد تک کے مساوی رہی ہیں۔

تاہم ایشیائی ترقیاتی بینک نے خبردار کیا ہے کہ ترسیلات زر صنعتی ترقی اور برآمدات پر مبنی معاشی تبدیلی کا متبادل نہیں بن سکتیں۔ رپورٹ کے مطابق ترسیلات زر اگرچہ کھپت کو سہارا دیتی ہیں اور معاشی جھٹکوں کے اثرات کم کرتی ہیں، لیکن وہ براہ راست صنعتی استعداد، پیداواری ترقی یا برآمدی مسابقت پیدا نہیں کرتیں۔

رپورٹ میں لاجسٹکس اور رابطہ کاری کی اہمیت پر بھی زور دیا گیا ہے۔ ترکیہ یورپ، مشرق وسطیٰ اور وسطی ایشیا کے درمیان ایک اہم جغرافیائی محل وقوع رکھتا ہے، جبکہ جدید بندرگاہیں، ریل نیٹ ورک اور مربوط سپلائی چینز اس کی صنعتی برتری کو مزید مضبوط بناتی ہیں۔

اس کے مقابلے میں پاکستان اپنے جغرافیائی محل وقوع اور سمندری بندرگاہوں تک رسائی کے باوجود نقل و حمل کی رکاوٹوں، کمزور لاجسٹکس نظام اور بلند تجارتی لاگت جیسے مسائل سے دوچار ہے، جس کی وجہ سے وہ برآمدی مواقع سے بھرپور فائدہ اٹھانے میں ناکام رہتا ہے۔

موضوعات : adbpakistanturkey
ShareSend

متعلقہ خبریں

Is the 10-rupee note being discontinued in Pakistan
اہم ترین 3

کیا پاکستان میں 10روپے کا نوٹ ختم ہو رہا ہے؟

22 ستمبر , 2026
799 Pakistani workers died abroad in two years; highest number of deaths in Saudi Arabia.
تازہ ترین

2سال میں بیرونِ ملک 799 پاکستانی ورکرز جاں بحق، سعودی عرب میں سب سے زیادہ اموات

21 ستمبر , 2026
Turkey's first mission to the moon, preparation and installation of the spacecraft complete
تازہ ترین

ترکیہ کا چاند پر پہلا مشن، خلائی جہاز کی تیاری اور تنصیب مکمل

15 ستمبر , 2026
Turkey's Akinci drone hits target 250 km away
تازہ ترین

ترکیہ کا اکینجی ڈرون 250 کلومیٹر دور ہدف پر جا لگا

15 ستمبر , 2026
Mecca joint defense agreement is an important message for the Islamic world, Erdogan says
تازہ ترین

مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ اسلامی دنیا کے لیے اہم پیغام ہے، اردوان

15 ستمبر , 2026
Pakistan fined 50% and docked World Test Championship points for slow over-rate in the Edgbaston Test.
تازہ ترین

ایجبسٹن ٹیسٹ میں سلو اوور ریٹ، پاکستان پر50فیصد جرمانہ، عالمی ٹیسٹ چیمپئن شپ پوائنٹس بھی کٹ گئے

14 ستمبر , 2026
اگلی خبر
مہاجرین کی نشستوں کا معاملہ: سپریم کورٹ آزاد کشمیر نے حکومتی مؤقف درست قرار دے دیا

مہاجرین کی نشستوں کا معاملہ: سپریم کورٹ آزاد کشمیر نے حکومتی مؤقف درست قرار دے دیا

یہ بھی پڑھیں

US President's ultimatum to Iran

امریکی صدر کا ایران کو الٹی میٹم

22 ستمبر , 2026
Lahore High Court reserves verdict on petition against Aleema Khan's detention.

علیمہ خان کی نظر بندی کے خلاف درخواست، لاہور ہائیکورٹ میں فیصلہ محفوظ

22 ستمبر , 2026
Asian Games Pakistan women's cricket team victorious, defeating Bangladesh by 31 runs.

ایشین گیمز، پاکستان ویمن کرکٹ ٹیم کی فتح، بنگلا دیش کو 31 رنز سے شکست

22 ستمبر , 2026
Asian Games Pakistan secures a magnificent hockey victory, defeating Uzbekistan 5-1.

ایشین گیمز، پاکستان کی ہاکی میں شاندار فتح، ازبکستان کو 5-1 سے شکست

22 ستمبر , 2026
Trump's popularity has dropped to 29 percent for the first time.

ٹرمپ کی مقبولیت پہلی بار 29 فیصد تک گر گئی

22 ستمبر , 2026

ہمارے بارے میں

"پاک ترک نیوز" ایک غیر جانب دار اردو نیوز ویب سائٹ ہے جو پاکستان، ترکی اور دنیا بھر کی اہم خبروں، تجزیات، اور فیچر مضامین کو اردو قارئین تک بروقت اور مستند انداز میں پہنچانے کا عزم رکھتی ہے۔ ہم پاک ترک تعلقات، عالمی سیاست، معیشت، ثقافت، اور سوشل ایشوز کو ایک نیا زاویہ دیتے ہیں، تاکہ قارئین باخبر، با شعور اور با اثر رہیں۔

  • صفحہ اول
  • پاکستان
  • تازہ ترین
  • ترکک
  • دنیا
  • ہمارے بارے میں
  • شرائط و ضوابط
  • پرائیویسی پالیسی
  • اعلانِ لاتعلقی
  • رابطہ کریں

ہمارا سوشل میڈیا فالو کریں

Facebook Twitter Instagram Youtube

Copyright 2026 © تمام اشاعتی حقوق پاک ترک نیوز کے محفوظ ہیں۔ بغیر اجازت نقل و اشاعت کی اجازت نہیں۔

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • ترکیہ
  • دنیا
  • کھیل
  • معیشت
  • کالم/بلاگز
  • ٹیکنالوجی
  • تعلیم و صحت

Copyright 2026 © تمام اشاعتی حقوق پاک ترک نیوز کے محفوظ ہیں۔ بغیر اجازت نقل و اشاعت کی اجازت نہیں۔