اسلام آباد ( پاک ترک نیوز) مشرق وسطیٰ میں جنگ کے باعث پیدا ہونے والا توانائی بحران اب اپنے اختتام کے قریب دکھائی دے رہا ہے۔ ایران اور امریکا کے درمیان تاریخی معاہدے کے بعد عالمی تیل اور گیس مارکیٹ میں زبردست ہلچل مچ گئی ۔ تیل کی قیمتیں گر رہی ہیں، ایرانی تیل سمندروں میں دوبارہ رواں دواں ہے اور قطر نے بھی گیس کی سپلائی بحال کرنے کا گرین سگنل دے دیا ۔
خلیج عمان سے ایک اور بڑی خبر سامنے آئی ہے۔ ایرانی خام تیل سے بھرا تیسرا سپر ٹینکر بھی امریکی نگرانی کی لائن عبور کر گیا۔ ایک ملین بیرل تیل لے جانے والا جہاز سونیا ون عالمی منڈیوں کی جانب روانہ ہو چکا ہے، جبکہ اس سے قبل بھی لاکھوں بیرل ایرانی تیل مارکیٹ کا رخ کر چکے ہیں۔یہ پیش رفت اس بات کا واضح اشارہ سمجھی جا رہی ہے کہ برسوں سے پابندیوں میں جکڑا ایرانی تیل ایک بار پھر عالمی توانائی مارکیٹ میں طاقتور واپسی کر رہا ہے۔
ایرانی تیل کی واپسی کی خبر آتے ہی عالمی منڈی میں بھونچال آ گیا۔ امریکی خام تیل کی قیمت تقریباً پانچ ڈالر فی بیرل گر گئی جبکہ برطانوی برینٹ کروڈ بھی تیزی سے نیچے آ گیا۔توانائی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ سرمایہ کاروں نے ممکنہ سپلائی بحران کے خاتمے پر سکھ کا سانس لیا ہے، جس کے باعث قیمتوں میں یہ تاریخی کمی دیکھنے میں آئی۔
دوسری جانب قطر نے بھی عالمی منڈی کے لیے بڑی خوشخبری سنا دی ہے۔ آبنائے ہرمز مکمل طور پر کھلتے ہی قطر اپنی ایل این جی پیداوار تیزی سے بحال کرنے جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: آبنائے ہرمز کھلتے ہی قطر کی ایل این جی پیداوار بحال کرنے کی تیاری
قطر انرجی کے مطابق صرف ایک ماہ میں پیداوار پچاس فیصد جبکہ دو ماہ کے اندر اسی فیصد تک بحال کی جا سکتی ہے۔ یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دنیا بھر کی صنعتیں اور معیشتیں مہنگی گیس کے بوجھ تلے دبی ہوئی ہیں۔
اگر ایران امریکہ معاہدہ پائیدار ثابت ہوتا ہے اور آبنائے ہرمز مستقل طور پر کھلی رہتی ہے تو دنیا روزانہ لاکھوں اضافی بیرل تیل اور بڑی مقدار میں قدرتی گیس حاصل کر سکے گی۔اس کے اثرات صرف عالمی منڈیوں تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پاکستان سمیت درآمدی ایندھن پر انحصار کرنے والے ممالک کو بھی بڑا ریلیف مل سکتا ہے۔












