دوحہ ( پاک ترک نیوز) قطر کا کہناہے آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت بحال ہوتے ہی وہ ایل این جی کی پیداوار تیزی سے دوبارہ شروع کرنے کے لیے تیار ہے۔
بلومبرگ کی رپورٹ کے مطابق سرکاری کمپنی قطر انرجی نے اپنے صارفین کو آگاہ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کے ذریعے محفوظ جہاز رانی بحال ہونے کے ایک ماہ کے اندر وہ اپنی ایل این جی پیداواری صلاحیت کا تقریباً 50 فیصد بحال کر سکتی ہے، جبکہ دو ماہ میں پیداوار 80 فیصد تک پہنچنے کا امکان ہے۔
رپورٹ کے مطابق یہ منصوبہ امریکا اور ایران کے درمیان طے پانے والے معاہدے کے برقرار رہنے اور خطے میں سکیورٹی صورتحال کے مستقل طور پر بہتر ہونے سے مشروط ہے۔
یہ بھی پڑھیں: 10لاکھ ٹن گیس کی خریداری کیلئے ٹینڈر جاری
قطر کی ایل این جی پیداوار کو رواں سال مارچ میں شدید دھچکا لگا تھا جب ایرانی میزائل اور ڈرون حملوں سے راس لفان گیس کمپلیکس کو نقصان پہنچا۔ راس لفان دنیا کا سب سے بڑا ایل این جی پیداواری مرکز سمجھا جاتا ہے۔
قطر انرجی کے مطابق حملوں کے باعث ہونے والے نقصانات کی وجہ سے کمپنی کو سالانہ تقریباً 20 ارب ڈالر آمدنی کے نقصان کا سامنا ہے، جبکہ مکمل بحالی میں پانچ سال تک کا عرصہ لگ سکتا ہے۔
کمپنی پہلے ہی بعض طویل المدتی ایل این جی معاہدوں پر فورس میجر کا اعلان کر چکی ہے، جس کے باعث عالمی گیس منڈیوں میں بے یقینی پیدا ہوئی۔
مشرق وسطیٰ میں ایل این جی کی فراہمی متاثر ہونے کے بعد گزشتہ چند ماہ کے دوران ایشیا اور یورپ میں قدرتی گیس کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا، تاہم امریکہ اور ایران کے درمیان معاہدے کی خبروں کے بعد یورپی گیس کی قیمتوں میں تقریباً 6 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی، جو پانچ ہفتوں کی کم ترین سطح ہے۔












