پیرس ( پاک ترک نیوز) انسانی حقوق کے اداروں نے انتہا پسند طالبان رجیم سے روابط پریورپی یونین پر تنقید کی ہے اور کہا ہے کہ یورپی یونین نے افغان طالبان کے بدترین انسانی حقوق ریکارڈ کے باوجود اس رجیم کے ساتھ مذاکرات کئے۔افغان طالبان رجیم نے میڈیا کی آزادی سلب کرلی اورمخالفین وانسانی حقوق کے کارکنوں کی گرفتاریاں کی ہیں۔
ہیومن رائٹس واچ کے مطابق طالبان نے خواتین کی ثانوی واعلیٰ تعلیم پرپابندی لگا دی جبکہ روزگاراورنقل وحرکت بھی انتہائی محدود کردی، یورپی یونین کی جانب سے طالبان کی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی مذمت اورعملی روابط میں تضاد نمایاں ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ترکیہ میں 24 افغان باشندوں کی گرفتاری
ہیومن رائٹس واچ کے مطابق یواین میں ڈنمارک کی مستقل مندوب کرسٹینا مارکس لاسن نے بھی طالبان رجیم کوآڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا تھا کہ افغانستان کی خواتین اورلڑکیوں کوعوامی زندگی سے خارج کرکے ان کی آوازوں کو دبا دیا گیا۔
عالمی اداروں کی تنقید سے یہ واضح ہوگیا ہے کہ انسانی حقوق کی تنظیمیں اب غاصب طالبان رجیم کے حوالے سےکسی سمجھوتے پرتیارنہیں ہیں۔












