
از:سہیل شہریار
جہاں یورپی یونین کی جانب سےمہاجرین اور پناہ کے متلاشیوں کے لیے آف شور مراکز بنانےکا منصوبہ حتمی مرحلے میں داخل ہوگیا ہے ۔ وہیں یورپی پارلیمنٹ کے اراکین نے رکن ملکوں کو غیر قانونی مہاجرین کے خلاف سخت قانون سازی کی منظوری دے دی ہے۔
یورپی پارلیمنٹ کی جاری کردہ معلومات کے مطابق یورپی پارلیمنٹ میں قانونی تبدیلیوں کے لیے ووٹنگ میں مرکز، دائیں اور انتہائی دائیں بازو کے ممبران نےتبدیلیوں کے حق میں ووٹ دیا جو یورپی ملکوں کے حکام کو پناہ کے متلاشیوں کو ملک بدر کرنے کے لیے مزید اختیارات فراہم کریںگی۔ جس میں غیر قانونی مہاجرین کو ان ممالک کو بھیجنا بھی شامل ہے۔
نئے قوانین کے تحت جن کا اطلاق جون سے متوقع ہے۔ سیاسی پناہ کے متلاشی افراد کو یورپی یونین سے باہر کسی ملک میں ڈی پورٹ کیا جا سکتا ہے۔ چاہے وہ صرف اس سے گزرےہو ںیا ایسی جگہ جہاں سے ان کا کوئی تعلق نہ ہو۔ اس سلسلے میں یورپی حکومتوں کی جانب سے پناہ کے متلاشیوںکو وصول کرنے کے لئے مختلف ریاستوں کے ساتھ معاہدے کئے جا رہے ہیں۔اس میں البانیہ کے ساتھ اٹلی کے معاہدے اور یوگنڈا کے ساتھ ڈچ حکومت کے ایسے لوگوں کی ملک بدری کے معاہدے کو اہم قرار دیا جا رہا ہے جن کے ہالینڈ میں پناہ کے دعوے مسترد کر دیے گئے ہیں۔
اسی ضمن میںایک الگ ووٹ میںیورپی پارلیمنٹ نے "محفوظ تیسرے ممالک” کی یورپی یونین کی فہرست بنانے کے لیے بھی ووٹ دیاہے۔ جس کے نتیجے میں فہرست میں شامل ملکوں کے شہریوں کے لئے یورپی یونین میں سیاسی پناہ کا دعوی کرنا مشکل ہو جائے گا۔اس فہرست میں جارجیا اور ترکی سمیت یورپی یونین کے تمام امیدوار ممالک شامل ہیں، جہاں یورپی یونین نے 2025 میں اپوزیشن کے خلاف حکومتی کریک ڈاؤن پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ محفوظ فہرست میں بنگلہ دیش، کولمبیا، مصر، بھارت، کوسوو، مراکش اور تیونس بھی شامل ہیں۔مگر تیونس کی فہرست میں شمولیت پر انسانی حقوق کی تنظیموں کے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
یورپی یونین 2015 میں13 لاکھ سے زیادہ لوگوں کے پناہ کا دعویٰ کرنے سے پیدا ہونے والے مہاجرین کے بحران کے بعد سے اس ضمن میں قوانین کو سخت کرنے کی کاوشوں میں مصروف ہیں۔اور حالیہ برسوں کے دوران پورےیورپ میں قوم پرست اور انتہائی دائیں بازو کی جماعتوں کے انتخابی عمل مین آگے آنےکے ساتھ اس رجحان میں تیزی آئی ہے۔جبکہ یورپی یونین کے رہنماؤں نے 2024میںیورپی ملکوں میں پناہ کے متلاشیوں کی اپنےدعووں میں ناکامی پر انکے لئے آف شور ریٹرن ہب کے تصور کی توثیق کی تھی۔
اقوام متحدہ کے پناہ گزینوں کے ادارے کے مطابق گزشتہ سال 2025میں 155,100 افراد نے اپنی جان خطرے میں ڈال کر بحیرہ روم میں غیر محفوظ کشتیوں میں سفر کیا۔ اس دوران 1,953 افراد ہلاک یا لاپتہ ہو گئے۔جبکہ ہلاکتوں کا سلسلہ 2026 میں بھی جاری رہی۔ گزشتہ ماہ تیونس سے آنے والی ایک کشتی سمندری طوفان کی زد میں آنے سے 380 افراد کے ڈوب جانے کا خدشہ ہے۔
نئے یورپی اقدامات کے حامیوں کا کہنا ہے کہ وہ انسانی اسمگلروں کے کاروباری ماڈل کو کمزور کرنا چاہتے ہیں۔تاہم جن لوگوں کو حقیقی طور پر تحفظ کی ضرورت ہے انہیں یہ ضرور ملنا چاہیے۔مگر یہ ضروری نہیں کہ ایسا یورپی یونین میں ہی ہو۔ ایک تیسرے محفوظ ملک میں بھی مؤثر تحفظ فراہم کیا جا سکتا ہے۔
بین الاقوامی ریسکیو کمیٹی نے یورپی یونین کے حالیہ ووٹوں کو انتہائی مایوس کن قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ نئے محفوظ تیسرے ملک کے قوانین لوگوں کو ان ممالک میں جانے پر مجبور کر سکتے ہیں جہاں انہوں نے کبھی قدم نہیں رکھا ہو گا – ایسی جگہوں پر جہاں ان کی کوئی کمیونٹی نہیں ہے، وہ زبان نہیں بولتے اور وہاں انہیں بدسلوکی اور استحصال کے حقیقی خطرے کا سامنا ہے۔












