ہفتہ , 6 جون , 2026
  • لاگ ان کریں
پاک ترک نیوز
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • ترکیہ
  • دنیا
  • کھیل
  • معیشت
  • کالم/بلاگز
  • ٹیکنالوجی
  • تعلیم و صحت
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • ترکیہ
  • دنیا
  • کھیل
  • معیشت
  • کالم/بلاگز
  • ٹیکنالوجی
  • تعلیم و صحت
No Result
View All Result
پاک ترک نیوز
No Result
View All Result
Home تازہ ترین

یورپی یونین کا پناہ کے متلاشی افراد کیلئے آف شور مراکز بنانے کا منصوبہ حتمی مراحل میں داخل

3 مہینے پہلے
A A
EU's plan to create offshore centers for asylum seekers enters final stages
Share on Facebookwhatsapp

از:سہیل شہریار
جہاں یورپی یونین کی جانب سےمہاجرین اور پناہ کے متلاشیوں کے لیے آف شور مراکز بنانےکا منصوبہ حتمی مرحلے میں داخل ہوگیا ہے ۔ وہیں یورپی پارلیمنٹ کے اراکین نے رکن ملکوں کو غیر قانونی مہاجرین کے خلاف سخت قانون سازی کی منظوری دے دی ہے۔
یورپی پارلیمنٹ کی جاری کردہ معلومات کے مطابق یورپی پارلیمنٹ میں قانونی تبدیلیوں کے لیے ووٹنگ میں مرکز، دائیں اور انتہائی دائیں بازو کے ممبران نےتبدیلیوں کے حق میں ووٹ دیا جو یورپی ملکوں کے حکام کو پناہ کے متلاشیوں کو ملک بدر کرنے کے لیے مزید اختیارات فراہم کریںگی۔ جس میں غیر قانونی مہاجرین کو ان ممالک کو بھیجنا بھی شامل ہے۔


نئے قوانین کے تحت جن کا اطلاق جون سے متوقع ہے۔ سیاسی پناہ کے متلاشی افراد کو یورپی یونین سے باہر کسی ملک میں ڈی پورٹ کیا جا سکتا ہے۔ چاہے وہ صرف اس سے گزرےہو ںیا ایسی جگہ جہاں سے ان کا کوئی تعلق نہ ہو۔ اس سلسلے میں یورپی حکومتوں کی جانب سے پناہ کے متلاشیوںکو وصول کرنے کے لئے مختلف ریاستوں کے ساتھ معاہدے کئے جا رہے ہیں۔اس میں البانیہ کے ساتھ اٹلی کے معاہدے اور یوگنڈا کے ساتھ ڈچ حکومت کے ایسے لوگوں کی ملک بدری کے معاہدے کو اہم قرار دیا جا رہا ہے جن کے ہالینڈ میں پناہ کے دعوے مسترد کر دیے گئے ہیں۔
اسی ضمن میںایک الگ ووٹ میںیورپی پارلیمنٹ نے "محفوظ تیسرے ممالک” کی یورپی یونین کی فہرست بنانے کے لیے بھی ووٹ دیاہے۔ جس کے نتیجے میں فہرست میں شامل ملکوں کے شہریوں کے لئے یورپی یونین میں سیاسی پناہ کا دعوی کرنا مشکل ہو جائے گا۔اس فہرست میں جارجیا اور ترکی سمیت یورپی یونین کے تمام امیدوار ممالک شامل ہیں، جہاں یورپی یونین نے 2025 میں اپوزیشن کے خلاف حکومتی کریک ڈاؤن پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ محفوظ فہرست میں بنگلہ دیش، کولمبیا، مصر، بھارت، کوسوو، مراکش اور تیونس بھی شامل ہیں۔مگر تیونس کی فہرست میں شمولیت پر انسانی حقوق کی تنظیموں کے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
یورپی یونین 2015 میں13 لاکھ سے زیادہ لوگوں کے پناہ کا دعویٰ کرنے سے پیدا ہونے والے مہاجرین کے بحران کے بعد سے اس ضمن میں قوانین کو سخت کرنے کی کاوشوں میں مصروف ہیں۔اور حالیہ برسوں کے دوران پورےیورپ میں قوم پرست اور انتہائی دائیں بازو کی جماعتوں کے انتخابی عمل مین آگے آنےکے ساتھ اس رجحان میں تیزی آئی ہے۔جبکہ یورپی یونین کے رہنماؤں نے 2024میںیورپی ملکوں میں پناہ کے متلاشیوں کی اپنےدعووں میں ناکامی پر انکے لئے آف شور ریٹرن ہب کے تصور کی توثیق کی تھی۔
اقوام متحدہ کے پناہ گزینوں کے ادارے کے مطابق گزشتہ سال 2025میں 155,100 افراد نے اپنی جان خطرے میں ڈال کر بحیرہ روم میں غیر محفوظ کشتیوں میں سفر کیا۔ اس دوران 1,953 افراد ہلاک یا لاپتہ ہو گئے۔جبکہ ہلاکتوں کا سلسلہ 2026 میں بھی جاری رہی۔ گزشتہ ماہ تیونس سے آنے والی ایک کشتی سمندری طوفان کی زد میں آنے سے 380 افراد کے ڈوب جانے کا خدشہ ہے۔
نئے یورپی اقدامات کے حامیوں کا کہنا ہے کہ وہ انسانی اسمگلروں کے کاروباری ماڈل کو کمزور کرنا چاہتے ہیں۔تاہم جن لوگوں کو حقیقی طور پر تحفظ کی ضرورت ہے انہیں یہ ضرور ملنا چاہیے۔مگر یہ ضروری نہیں کہ ایسا یورپی یونین میں ہی ہو۔ ایک تیسرے محفوظ ملک میں بھی مؤثر تحفظ فراہم کیا جا سکتا ہے۔


بین الاقوامی ریسکیو کمیٹی نے یورپی یونین کے حالیہ ووٹوں کو انتہائی مایوس کن قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ نئے محفوظ تیسرے ملک کے قوانین لوگوں کو ان ممالک میں جانے پر مجبور کر سکتے ہیں جہاں انہوں نے کبھی قدم نہیں رکھا ہو گا – ایسی جگہوں پر جہاں ان کی کوئی کمیونٹی نہیں ہے، وہ زبان نہیں بولتے اور وہاں انہیں بدسلوکی اور استحصال کے حقیقی خطرے کا سامنا ہے۔

موضوعات : europeunionimmigrantsoffshore
ShareSend

متعلقہ خبریں

New York Mayor Orders More Steps to Protect Immigrants
تازہ ترین

میئر نیویارک کا تارکین وطن کے تحفط کیلئے مزید اقدامات کرنے کا حکم

23 مئی , 2026
Deputy Prime Minister Ishaq Dar's telephone conversation with the Vice President of the European Union
تازہ ترین

نائب وزیرِاعظم اسحاق ڈار کا یورپی یونین کی نائب صدرسے ٹیلیفونک رابطہ

30 اپریل , 2026
The European Union is Pakistan's largest trading partner, says the Prime Minister
اہم ترین

یورپی یونین پاکستان کا سب سے بڑا تجارتی پارٹنر ہے،وزیراعظم

28 اپریل , 2026
What is the difference between a US immigrant and tourist visa
تازہ ترین

امریکا کے امیگرنٹ اور ٹورسٹ ویزہ میں کیا فرق ہے؟

16 جنوری , 2026
جرمنی کا افغان پناہ گزین پروگرام فوری ختم کرنے کا اعلان
تازہ ترین

جرمنی کا افغان پناہ گزین پروگرام فوری ختم کرنے کا اعلان

15 دسمبر , 2025
یورپی یونین کے تمام ممالک کی امیگریشن پالیسی میں نمایاں سختی کی حمایت
تازہ ترین

یورپی یونین کے تمام ممالک کی امیگریشن پالیسی میں نمایاں سختی کی حمایت

13 دسمبر , 2025
اگلی خبر
India's fighter jets become flying coffins, another Tejas crashes

بھارت کے لڑاکا طیارے اڑتے تابوت بن گئے، ایک اور تیجس گر کر تباہ

یہ بھی پڑھیں

Election campaign ends in Gilgit-Baltistan, polling to take place tomorrow

گلگت بلتستان میں انتخابی مہم ختم، پولنگ کل ہوگی

6 جون , 2026
Iran did not agree to ceasefire agreement, Donald Trump

ایران نے جنگ بندی معاہدے پر اتفاق نہیں کیا،ڈونلڈ ٹرمپ

6 جون , 2026
Petrol cheaper by Rs 4 per liter, diesel price unchanged

پٹرول 4روپے لٹر سستا ،ڈیزل کی قیمت برقرار

6 جون , 2026
دہلی میں جمخانہ کلب کی زمین سرکاری تحویل میں واپس، لاہور کا ایلیٹ کلب اب بھی 5 ہزار روپے سالانہ لیز پر قائم

دہلی میں جمخانہ کلب کی زمین سرکاری تحویل میں واپس، لاہور کا ایلیٹ کلب اب بھی 5 ہزار روپے سالانہ لیز پر قائم

5 جون , 2026
اقتصادی رابطہ کمیٹی نے کئی منصوبوں کیلئے گرانٹ کی منظوری دے دی

اقتصادی رابطہ کمیٹی نے کئی منصوبوں کیلئے گرانٹ کی منظوری دے دی

5 جون , 2026

ہمارے بارے میں

"پاک ترک نیوز" ایک غیر جانب دار اردو نیوز ویب سائٹ ہے جو پاکستان، ترکی اور دنیا بھر کی اہم خبروں، تجزیات، اور فیچر مضامین کو اردو قارئین تک بروقت اور مستند انداز میں پہنچانے کا عزم رکھتی ہے۔ ہم پاک ترک تعلقات، عالمی سیاست، معیشت، ثقافت، اور سوشل ایشوز کو ایک نیا زاویہ دیتے ہیں، تاکہ قارئین باخبر، با شعور اور با اثر رہیں۔

  • صفحہ اول
  • پاکستان
  • تازہ ترین
  • ترکک
  • دنیا
  • ہمارے بارے میں
  • شرائط و ضوابط
  • پرائیویسی پالیسی
  • اعلانِ لاتعلقی
  • رابطہ کریں

ہمارا سوشل میڈیا فالو کریں

Facebook Twitter Instagram Youtube

Copyright 2025 © تمام اشاعتی حقوق پاک ترک نیوز کے محفوظ ہیں۔ بغیر اجازت نقل و اشاعت کی اجازت نہیں۔

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • ترکیہ
  • دنیا
  • کھیل
  • معیشت
  • کالم/بلاگز
  • ٹیکنالوجی
  • تعلیم و صحت

Copyright 2025 © تمام اشاعتی حقوق پاک ترک نیوز کے محفوظ ہیں۔ بغیر اجازت نقل و اشاعت کی اجازت نہیں۔