
از: سہیل شہریار
یورپی یونین کے تمام 27 ممالک نے یورپ کی امیگریشن پالیسی میں نمایاں سختی لانے کی حمایت کردی ہے۔ جس میں پناہ کے متلاشی ناکام افراد کے لیے یورپی بلاک کے باہر "واپسی کے مرکز” کے قیام کی توثیق بھی شامل ہے۔
برسلز میں ہونے والے یورپی ملکوں کے وزرائے داخلہ کے تازہ اجلاس میںہجرت اور پناہ کے متلاشیوں کے حوالے سے اقدامات کے ایک پیکج پر اتفاق کر لیا ہے۔ یورپی حکومتوں پر دباؤ ہے کہ وہ ہجرت کے بارے میں منفی رائے عامہ کےپیش نظر اس معاملے میں سخت موقف اختیار کریں ۔ کیونکہ یورپ کی موجودہ امیگریشن پالیسیسے انتہائی دائیں بازوکی جماعتیں سیاسی و انتخابی فوائداٹھا رہی ہیں۔
یورپی کمیشن کی طرف سے امیگریشن پالیسی میں تبدیلیوں کی تجاویز رواں سال کے شروع میں پیش کی گئیتھیں۔ جن کے نفاذسے پہلے انکی یورپی پارلیمنٹ سے منظور ی ا ضروری ہے۔خصوصاً یورپی یونین کی سرحدوں سے باہر "واپسی مراکز”کے قیام کی اجازت دینا جہاں ایسے تارکین وطن رکھا جائے گا جن کی پناہ کی درخواستیں مسترد ہو چکی ہوں گی۔ اسی طرح ان تارکین وطن کے لیے سخت سزائیں بھی پیکیج میں شامل ہیں جو یورپی سرزمین چھوڑنے سے انکار کریں گے۔جبکہ ان سزاؤں میں طویل عرصے تک حراست میں رکھنا اور تارکین وطن کو ان کے اصل ملکوں کی بجائے یورپی حکومتوں کے پسند کے ملکوں کو بھجوانا بھی شامل ہے۔
اگرچہ یورپ میں پناہ اور ہجرت کے متلاشیوں کےاندراجات میں کمی نے ہاٹ بٹن کے معاملے پر کام کرنے کے دباؤ کو کم نہیں کیا ہے۔اس کے باوجودنئے اقدامات نے تارکین وطن کے ساتھ کام کرنے والےاداروں میں تشویش پیدا کر دی ہے۔ غیر دستاویزی تارکین وطن کی مدد کرنے والی این جی اوز کی رائے ہے کہحفاظت، تحفظ اور شمولیت میں سرمایہ کاری کرنے کے بجائےیورپ ایسے اقدامات کا انتخاب کر رہا ہے جو زیادہ سے زیادہ لوگوں کو خطرے اور قانونی شکنجے میں دھکیل دیں گی۔
دوسری جانب یورپی یونین کے رکن ملکوں کو باری باری ملنے والی صدارت کے تحت موجودہ صدر ڈنمارک جو طویل عرصے سے ہجرت کے سخت قوانین کی وکالت کرتا رہا ہے۔ اور ہجرت کے قوانین میں تبدیلیوں کا محرک بھی ہے کا کہنا ہے کہ، رکن ممالک اس حوالے سے تیزی سے آگے بڑھ رہے ہیں۔












